حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 15
حوادث طبیعی یا عذاب الہی (۲) ایسی منحوس تیز ہواؤں کا چلنا جو مسلسل جاری رہیں یہاں تک کہ آبادیاں ویران ہو جائیں اور انسانی لاشیں ٹوٹے ہوئے درختوں کی طرح ہر طرف بکھری ہوئی دکھائی دیں۔كَذَّبَتْ عَادُ فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِ وَنُذْرِ إِنَّا أَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيحًا صَرُصَرًا فِي يَوْمِ نَحْسٍ مُّسْتَمِرٍ - تَنْزِعُ النَّاسَ كَافَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ مُّنْقَعِرٍ۔( سورة القمر : ۱۹-۲۱) ترجمہ : عاد قوم نے بھی اپنے رسول کا انکار کیا تھا پھر دیکھو میر اعذاب اور میر اڈرانا کیسا تھا۔ہم نے ان پر ایک ایسی ہوا بھیجی جو تیز چلنے والی تھی اور ایک دیر تک رہنے والے منحوس وقت میں چلائی گئی تھی وہ لوگوں کو اس طرح اکھیٹر پھینکتی تھی گویادہ کھجور کے ایسے تنے ہیں جن کے اندر کا گودا کھایا ہوا تھا۔(۳) زمین یا آسمان سے ایسی خوفناک گرج یا دھماکوں کا ظاہر ہونا جن کے نتیجہ میں آسمان پتھر برسانے لگے مثلاً آتش فشاں پہاڑوں کے اچانک پھٹنے سے قریب کی بستیوں کا جو حال ہوتا ہے بعینہ اس قسم کی حالت کا ذکر عذاب الہی کی صورت میں حسب ذیل آیات میں ملتا ہے۔فَأَخَذَ قُهُمُ الصَّيْحَةُ مُشْرِقِيْنَ - فَجَعَلْنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِمْ حِجَارَةً مِنْ سِجيل۔( سورة الحجر : ۷۴-۷۵) ترجمہ : اس پر اس موعود عذاب نے انہیں (یعنی لوط کی قوم کو) دن چڑھتے ہی پکڑ لیا جس پر ہم نے اس بستی کی اوپر والی سطح کو اس کی نچلی سطح کر دیا اور ان پر سنگریزوں سے بنے ہوئے پتھروں کی بارش برسائی۔(۴) ایسی آندھیوں کا مسلسل جاری رہنا جو مٹی اور ریت کے نتیجے میں بستیوں کو اس طرح دفنا دیں کہ محض دیکھنے کے لئے گھروں کے نشان باقی رہ جائیں۔تُدَمرُ كُلَّ شَيْءٍ بِأَمْرِ رَيْهَا فَأَصْبَحُوا لَا يُرَى إِلَّا مَسْكِنُهُمْ كَذَلِكَ نَجْزِى (سورۃ الاحقاف: ۲۶) الْقَوْمَ الْمُجْرِمِينَ ترجمہ : یہ ہوا اپنے رب کے حکم سے ہر چیز کو تباہ کرتی جائے گی نتیجہ یہ ہوا کہ ان پر 15