نصائح مبلغین

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 5 of 30

نصائح مبلغین — Page 5

5 نصائح مبلغین بھی نہیں رہتی۔لیکن مسلمان با وجود دن کو لڑنے کے رات کو گھنٹوں کھڑے رو رو کر دعائیں مانگتے ہیں۔خدا کے حضور گرتے ہیں۔یہ وہ بات تھی جس سے صحابہ نے دین کو قائم کیا۔باوجود اپنے تھکے ماندے ہونے کے بھی اپنے نفس کا خیال رکھا۔بعض دفعہ انسان اپنے تبلیغ کے فرض میں ایسا منہمک ہو جاتا ہے کہ پھر اسے نمازوں کا بھی خیال نہیں رہتا۔ایسا نہیں ہونا چاہئے ہر ایک چیز اپنے اپنے موقعہ اور محل کے مطابق اور اعتدال کے طور پر ہی ٹھیک ہوا کرتی ہے۔لوگوں کی بھلائی کرتے ہوئے یہ نہیں ہونا چاہئے کہ انسان اپنی بھلا ئی سے بے فکر ہو جائے۔پس ضروری ہے کہ وہ اپنا تزکیہ نفس کرے۔قرآن شریف کا مطالعہ کرے۔پھر اپنے نفس کا مطالعہ کرے تبلیغ بہت عمدہ کام ہے مگر تبلیغ کرنے میں بھی انسان کے دل پر زنگ لگتا ہے۔کبھی اگر تقریر اچھی ہوگئی ، اپنے مقابل کے مباحث کو ساکت کرادیا تو دل میں غرور آ گیا۔اور کبھی اگر تقریر اچھی نہ ہوئی ،لوگوں کو پسند نہ آئی تو مایوسی ہوگئی۔کبھی یہ ایک دلیل دیتا ہے دل ملامت کرتا ہے کہ تو دھوکا دے رہا ہے۔اس قسم کی کئی باتیں ہیں جو دل پر زنگ لاتی ہیں۔حدیث سے ثابت ہے کہ نبی کریم ﷺ جب کسی مجلس میں بیٹھا کرتے تھے تو آپ استغفار پڑھ لیا کرتے تھے حالانکہ آپ اعلیٰ درجے کے انسان تھے اور آپ کی مجلس میں بھی نیک ذکر ہوتا تھا۔یہ اس لئے تھا کہ آپ ﷺ ہمارے لئے ایک نمونہ تھے یہ ہمیں سکھایا جا تا تھا کہ ہم ایسا کیا کریں کہ جب کسی مجلس میں بیٹھیں تو استغفار کرتے رہیں اس لئے کہ کسی قسم کا ہمارے دل پر زنگ نہ بیٹھے۔اس لئے ذکر الہی پر زیادہ زور دینا چاہئے۔نماز وقت پر ادا کرنی چاہئے۔ہاں اگر کوئی ایسا ہی خاص موقعہ آ جائے تو اگر نماز جمع کرنی پڑے تو کرے لیکن میں دیکھتا ہوں کہ ہماری جماعت میں لوگ جھٹ نماز جمع کر لیتے ہیں۔یہ مرض نماز جمع کرنے کی بہت پھیلی