نصائح مبلغین — Page 29
29 تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ ، (العنكبوت : ۴۶) نماز نا پسندیدہ کاموں سے روکتی ) ہے۔نماز معراج المؤمنین یعنی مؤمنوں کو ترقیات روحانی دینے والی ہے۔پس نمازیں بہت پڑھو تا کہ تقویٰ حاصل ہو اور تم میں فرمانبرداری کی روح پیدا ہو جائے۔دسواں ذریعہ : اللہ تعالیٰ کے جلال و جمال کا معائنہ کرتا رہے۔جلال کے متعلق فرماتا ہے اولَمْ يَهْدِ لَهُمْ كَمْ أَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْقُرُونِ يَمْشُونَ فِي مسكنهم ، إِنَّ فِي ذَلِكَ لأيتٍ ، أَفَلَا يَسْمَعُونَ (السجدہ: ۲۷) یعنی کیا یہ بات ان کو ہدایت نہیں دیتی کہ اس سے پہلے کئی قوموں کو ہم نے ہلاک کیا اور یہ ان کے مکانوں کے کھنڈروں میں چلتے پھرتے ہیں اس میں بہت سے نشان ہیں کیوں نہیں سنتے۔جب تم دیکھو گے کہ خدا تعالیٰ کے نافرمانوں کا انجام یہ ہوگا اور جس ساز و سامان دنیوی کے لئے خدا کو ناراض کیا اس کا انجام یہ ہے۔تو لامحالہ فرمانبرداری کی طرف توجہ ہوگی۔اور جمال یعنی انعامات کے متعلق اس کے ساتھ ارشاد ہوتا ہے اَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا نَسُوقُ الْمَاءَ إِلَى الْأَرْضِ الْجُرُزِ فَنُخْرِجُ بِهِ زَرْعًا تَأْكُلُ مِنْهُ أَنْعَامُهُمْ وَأَنْفُسُهُمْ أَفَلَا يُبْصِرُونَ (السجدہ:۲۸) کیا نہیں غور کرتے کہ ہم پانی کو خشک زمین کی طرف بہاتے ہیں پھر اس سے کھیتی پیدا کرتے ہیں۔جس سے ان کے چوپائے اور یہ خود کھاتے ہیں کیا بصارت سے کام نہیں لیتے۔آدمی انعامات النبی کا مطالعہ کرے اور اس کے احسانات اپنے روئیں ط روئیں پر دیکھے تو اپنے مولیٰ و حسن پر قربان ہونے کو جی چاہے۔تِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ -