نصائح مبلغین — Page 14
تلاش کرو اور پھر دوا دو۔14 کبھی کسی خاص شخص کی طرف اشارہ نہ ہو۔میں اپنا طریقہ بتا تا ہوں میں نے جب کبھی کسی کی مرض کے متعلق بیان کرنا ہو تو میں دو تین مہینے کا عرصہ درمیان میں ڈال لیتا ہوں۔تا کہ وہ بات لوگوں کے دلوں سے بھول جائے۔تو اتنا عرصہ کر دینا چاہئے۔اگر موقعہ ملے تو اس شخص کو جس میں یہ مرض ہے علیحدہ تخلیہ میں نرم الفاظ کے ساتھ سمجھاؤ ایسے الفاظ میں کہ وہ چڑ نہ جائے۔ہمدردی کے رنگ میں وعظ کرو۔ایک طرف اتنی ہمدردی دکھاؤ کہ غریبوں کے خدمتگار تم ہی معلوم ہو۔دوسری طرف اتنا بڑا بنو کہ تمہیں دنیا سے کوئی تعلق نہ ہو۔دو فریق بننے نہ دو۔دو شخصوں کے جھگڑے کے متعلق کسی خاص کے ساتھ تمہاری طرف داری نہ ہو۔کوئی مرض پاؤ تو اس کی دوا فور ادو۔کسی موقعہ پر چشم پوشی کر کے مرض کو بڑھنے نہ دو۔ہاں اگر اصلاح چشم پوشی ہی میں ہو تو کچھ حرج نہیں۔لوگوں کو جو تبلیغ کرو اس میں ایک جوش ہونا چاہئے۔جب تک تبلیغ میں ایک جوش نہ ہو وہ کام ہی نہیں کرسکتا۔سننے والے پر اثر ڈالو کہ جو تم کہہ رہے ہو اس کے لئے جان دینے کے لئے تیار ہو۔اور یہ جو کچھ تم سنارہے ہو یہ تمہیں ورثے کے طور پر نہیں ملا بلکہ تم نے خود اس کو پیدا کیا ہے۔تم نے خود اس پر غور کیا ہے۔(۲) ٹھٹھے باز نہیں ہونا چاہئے۔لوگوں کے دلوں سے ادب اور رعب جا تا رہتا ہے۔ہاں مذاق نبی کریم صلی یا اسلام بھی کر لیا کرتے تھے اس میں حرج نہیں۔احتیاط ہونی چاہیئے۔سنجیدہ معلوم ہو۔(۳) اور ہمدردی ہونی چاہئے۔نرم الفاظ ہوں سنجیدگی سے ہوں سمجھنے والا سمجھے میری زندگی اور موت کا سوال ہے۔تمہاری ہمدردی وسیع ہونی چاہئے احمدیوں سے بھی ہو