نصائح مبلغین

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 13 of 30

نصائح مبلغین — Page 13

13 جو بدی کسی قوم میں ہو اس کی تردید میں جرات سے لیکچر دو اپنے عمل دیکھتا ر ہے۔کبھی سستی نہ کرے۔لوگوں کو ان کی غلطی سے رو کے۔ایسانہ ہو کہ اللہ تعالیٰ کے قول کے نیچے آئے۔لَوْلَا يَنْبُهُمُ الرَّبَّانِيُّونَ وَالْأَحْبَارُ عَنْ قَوْلِهِمُ الْإِثْمَ وَأَكْلِهِمُ السُّحْتَ لَبِئْسَ مَا كَانُوا يَصْنَعُوْنَ (المائدہ : ۶۴) ترجمہ : عارف (لوگ) اور علماء انہیں ان کے جھوٹ بولنے اور ان کے حرام کھانے سے کیوں نہیں روکتے؟ جو کچھ وہ کرتے ہیں وہ یقیناً بہت برا ہے۔کیوں انہوں نے نہ روکا۔تو یہ فرض ہے۔بمبئی کے مولویوں کی طرح نہ ہو۔وہی لیکچر ہونا چاہئے جس کی لوگوں کو ضرورت ہو۔یہی بات ہمارے اور لا ہور یوں کے درمیان جھگڑے کی ہے۔وہ مرض بتا نانہیں چاہتے اور ہم مرض بتا نا چاہتے ہیں۔ان باتوں پر لیکچر دینے کی ضرورت نہیں جو اچھی باتیں ان میں ہیں یا جو بدیاں ان میں نہیں ہیں۔اگر وہ ؟ لڑکیوں کو حصہ نہ دیں تو اس پر لیکچر دو۔روزے نہ رکھیں تو اس پر دو۔نماز نہ پڑھیں تو اس پر دو۔زکوۃ نہ دیں تو اس پر دو۔صدقہ و خیرات نہ دیں تو اس پر دو لیکن جو باتیں ان میں ہیں ان پر نہ دو۔غریبوں پر اگر وہ ظلم کرتے ہیں ،شریفوں کا ادب نہیں کرتے ، چوری کرتے ہیں، جھوٹ بولتے ہیں، ان پر لیکچر دو لیکن چوری ان میں نہیں ہے اس پر نہ دو۔مرضیں