حضرت سید بیگم صاحبہ ’نانی امّاں‘ — Page 3
سیرت حضرت سید بیگم، نانی اماں جان صاحبہ 3 میں مشغول تھے۔مگر حضرت میر صاحب نے بیان فرمایا کہ وو مجھے اس قدر شرم آئی کہ میں نے ایک دفعہ بھی نظر اٹھا کر نہ دیکھا، میرا سر جھکا رہا ! اس زمانہ میں ان کی حیا اور نیکی دیکھ کر حضرت نانی اماں کے والد سید عبدالکریم صاحب کے دل میں رشتے کا خیال آیا۔انہوں نے اسی وقت حضرت میر ناصر نواب صاحب کے والد صاحب کو کہہ دیا کہ ' یہ لڑکا میرا ہوا۔(3) وو حضرت میر ناصر نواب صاحب کا تعلق ایک صوفی بزرگ خاندان سے تھا۔(4) حضرت میر ناصر نواب صاحب اپنے والد صاحب کی وفات کے وقت بارہ ، تیرہ سال کے تھے۔دوسال بعد دہلی میں غدر ہو گیا تو گھر میں سجاد ونشینی بس نام کی رہوگئی، یعنی و دوشان و شوکت نہ تھی مگر گزر اوقات اچھے طریق سے ہورہی تھی۔حضرت میر ناصر نواب صاحب کی تعلیم کا آغاز والد صاحب کی زندگی میں گھر ہی میں ہوا۔پھر دہلی کے غدر کے بعد آپ کی والدہ صاحبہ نے آپ کو اپنے بھائی میر ناصرحسین صاحب کے پاس صوبہ پنجاب گورداسپور بھیجوا دیا۔پنجاب میں تعلیم کا ان کو کوئی خاص فائدہ نہ پہنچا۔اس لئے ان کی والدہ صاحبہ نے وہاں سے واپس بلوالیا اور آپ کی شادی ایک شریف سادات