حضرت سید بیگم صاحبہ ’نانی امّاں‘ — Page 4
سیرت حضرت سید بیگم، نانی اماں جان صاحبہ خاندان کی صاحبزادی سید بیگم صاحبہ سے کر دی۔آپ کی والدہ ایک بہت نیک اور پارسا خاتون تھیں۔ہجرت کے وقت آباد گھر میں سے اگر کوئی چیز اٹھائی تو وہ قرآن شریف تھا۔شادی کے بعد دونوں میاں بیوی نے مولوی عبداللہ غزنوی کی بیعت کی۔21 سال کی عمر میں ایک بار پھر آپ کی والدہ محترمہ نے اپنے بھائی میر ناصرحسین صاحب کے پاس کام سیکھنے کے لئے حضرت میر ناصر نواب صاحب کو بھیجوا دیا ، جنہوں نے آپ کو نقشہ نویسی اور شہر کا کام سکھا کر محکمہ نہر میں اوورسئیر ملازم کروا دیا۔محکمہ نہر میں افسران نے ان سے 100 روپیہ نقد ، ضمانت طلب کی۔ان کے ساتھ کام کرنے والوں نے تو ضمانت کی رقم جمع کروادی۔مگر وہ حلال و حرام کی بہت زیادہ تمیز کرتے تھے۔اس لئے انہوں نے یہ روپیہ جمع کرانا مناسب نہ سمجھا۔محکمہ نہر رشوت ستانی کی وجہ سے بد نام تھا۔لیکن حضرت میر ناصر نواب صاحب نے دوران ملازمت کسی سے رشوت نہ لی۔آپ کی دیانت داری اور راست بازی کو تمام محکمہ قدر کی نگاہ سے دیکھتا تھا۔آپ نے حلال اور پاک روزی سے اپنے بچوں کی پرورش کی۔حضرت نانی اماں بہت نرم مزاج تھیں ان کے اخلاص کردار کے متعلق ان کے شوہر حضرت میر ناصر نواب صاحب نے فرمایا:۔