نماز مع ترجمہ اور ضروری مسائل — Page 8
12 11 مباشرت یعنی زن و شوئی کا مخصوص تعلق جنسی قائم کرنا۔احتلام یا کسی اور وجہ سے شہوانی ہیجان کے ساتھ مادہ منویہ کا نکلنا۔عورت کے ایام ماہواری یعنی خون حیض کا ختم ہونا ، ولادت کے بعد خون نفاس کا ختم ہونا، ان صورتوں میں نہائے بغیر اور اگر سخت سردی یا کسی اور وجہ سے نہانے سے بیمار ہو جانے کا ڈر ہو تو تیم کے بغیر نماز پڑھنا جائز نہ ہوگا۔غیر مسلم قبول اسلام کے بعد جب نماز پڑھنے لگے تو پہلے نہائے اور پھر اس کے بعد نماز شروع کرے تا کہ قبول اسلام کے بعد جب پہلی بار وہ خدا کے حضور حاضر ہو تو باطنی طہارت کے ساتھ ظاہری طور پر بھی پاک وصاف ہو۔نومولود بچہ کو نہلانا ضروری ہے اور تجہیز و تکفین سے پہلے میت کو غسل دینا بھی ضروری ہے تا کہ پاک صاف حالت میں اس کی نماز جنازہ پڑھی جا سکے اور پھر اس کی تدفین عمل میں لائی جائے۔علاوہ ازیں جمعہ اور عید کے دن اور حج کے موقع پر نہانا مسنون ہے اور اسی طرح بیماری سے شفایاب ہونے کے بعد فسل صحت بھی باعث برکت ہے۔جو شخص میت کو نہلائے اس کا بعد میں خود بھی نہا لینا بہتر ہے۔موسم کو مدنظر رکھتے ہوئے روزانہ یا کبھی کبھار نہاتے رہنا صحت وصفائی کے لحاظ سے بہت مفید رہتا ہے۔نہانے کے فرائض و آداب :۔نہانے کے تین فرض ہیں ا کلی کرنا۔۲۔پانی سے ناک صاف کرنا۔۳۔اس کے بعد سارے بدن پر پانی ڈالنا یہاں تک کہ جسم کا کوئی حصہ خشک نہ رہے۔عورت کے سر کے بال اگر گھنے اور گندھے ہوئے ہوں تو ان کا کھولنا اور سارے بالوں کو تر کرنا ضروری نہیں۔اگر سر کو پوری طرح دھونے میں خاص وقت اور مشکل ہو جیسے شدید سردی تو سر پر تین چلو پانی ڈال کر مسح کے رنگ میں سر پر ہاتھ پھیر لینا کافی ہے۔نہانے کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ نہانے والا موسم کے مطابق گرم یا سرد صاف ستھرا پانی استعمال کرے۔پہلے استنجاء کرے پھر بسم اللہ پڑھ کر ہاتھ دھوئے اس کے بعد کلی کرے اور ناک میں پانی ڈال کر اسے صاف کرے۔منہ اور کہنیوں تک ہاتھ دھوئے ، سر کا مسح کرے۔گویا پہلے وضو کرے پھر بدن پر تین بار پانی ڈالے۔پہلے دائیں طرف پھر بائیں طرف۔نہاتے وقت جسم کو اچھی طرح ملنا بھی چاہئے۔اسی طرح کوئی اچھا سا صابن یا میل دور کرنے والی کوئی اور مفید چیز استعمال کرنا بھی آداب غسل میں شامل ہے۔جس حالت میں نہانا ضروری ہے اس حالت میں نہائے بغیر نہ انسان نماز پڑھ سکتا ہے اور نہ ہی مسجد میں جاسکتا ہے۔وضو وضو کی حکمت : وضو سے کسلمندی اور غفلت دور ہو جاتی ہے۔جسم میں تازگی اور مستعدی آ جاتی ہے۔عبادت الہی کے لئے توجہ اور یکسوئی حاصل ہوتی ہے۔اس ظاہری پاکیزگی سے باطنی طہارت کی طرف توجہ پھرتی ہے۔گویا ایک طرح سے تصویری زبان میں انسان یہ دعا کرتا ہے کہ جس طرح یہ ظاہری پانی ان اعضاء کی میل کچیل کو دور کر رہا ہے اسی طرح تو بہ کا پانی اس باطنی میں کو دور کر دے جوان اعضاء کی غلط کرداری کی وجہ سے چڑھ گئی ہے۔موجبات وضو : قضائے حاجت یعنی پیشاب، پاخانہ کرنے یا پیشاب، یا خانہ کے رستہ سے کسی اور رطوبت کے نکلنے۔ہوا خارج ہونے ، ٹیک لگا کر یا لیٹ کرسونے اور بے ہوش ہو جانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے ایسی صورت حال پیش