نماز مع ترجمہ اور ضروری مسائل

by Other Authors

Page 7 of 32

نماز مع ترجمہ اور ضروری مسائل — Page 7

10 9 علاقے جہاں شفق شام اور شفق صبح کے درمیان امتیاز نہیں ہو سکتا اور درمیان میں غسق ( اندھیرا) حائل نہیں ہوتا وہاں نمازوں کے اوقات گھڑی کی مدد سے اندازہ سے مقرر کئے جاسکتے ہیں۔اوقات کی تعیین کے لئے یہ اصول مد نظر رکھنا چاہئے کہ چوبیس گھنٹے کے اندر ان اوقات کو اس طرح پھیلا کر مقرر کیا جائے کہ ان کا درمیانی وقفہ معتدل علاقوں کے اوقات نماز کے درمیانی وقفہ سے حتی الوسع ملتا جلتا ہو۔مجموعی آبادی کی معاشرتی عادت کے لحاظ سے ان علاقوں میں کام کاج کا جو وقت مقرر ہے وہ دن اور آرام سے سونے کا جو وقت ہے وہ رات شمار ہوگا اور سورج کے طلوع و غروب کی پابندی ضروری نہ ہوگی۔اوقات مکروہہ :۔سورج کے طلوع وغروب کے وقت اور عین دو پہر کے وقت کوئی نماز نہیں پڑھنی چاہئے نہ فرض نہ نفل۔اسی طرح فجر یا عصر کی نماز پڑھنے کے بعد کوئی نفل نہیں پڑھنے چاہئیں۔گویا ان اوقات میں نماز پڑھنا نا پسندیدہ اور مکروہ ہے۔آنحضرت ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے۔نماز کی دوسری شرط۔طہارت نماز کیا ہے اللہ تعالیٰ کے دربار میں حاضر ہونا۔قرب الہی کے حاصل کرنے کی کوشش کرنا۔پس اس کے لئے دل کا خلوص اور باطن کی پاکیزگی اور جگہ کا پاک وصاف ہونا بھی ایک لازمی شرط ہے۔ے وہ سرخی اور سفیدی جو سورج غروب اور طلوع ہونے کے وقت افق پر نمودار ہوتی ہے اسے شفق کہتے ہیں۔طہارت کے ایک معنی یہ ہیں کہ جسم کے کسی حصہ پر کوئی گند لگا ہوا نہ ہو مثلاً انسان کا بول و براز ، مادہ منویہ کسی جانور کا گو بر پیشاب ، مرغی کی بیٹ ، زخم کی پیپ جسم سے بہہ نکلنے والا خون ، حرام جانور اور مردار کا گوشت اور خون ، کتے اور دوسرے جانور کی رال اور ان کا جوٹھا، گلی کوچوں کا نا پاک کیچڑ یہ سب حقیقی نجاستیں ہیں۔ان میں سے کوئی نجاست اگر جسم کے کسی حصہ یا کپڑے کو لگ جائے تو پانی سے دھو کر اسے پاک وصاف کر لینا چاہئے۔ایک بار اچھی طرح دھونا کافی ہے لیکن اگر تین بار دھویا جائے تو زیادہ بہتر ہوگا۔اس ظاہری صفائی کے علاوہ نماز پڑھنے کے لئے غسل اور وضو بھی ضروری ہے۔غسل اور وضو کو طہارت حکمی کہتے ہیں اور جس حالت کی وجہ سے یہ طہارت ضروری ہوتی ہے اس حالت کا نام نجاست حکمی یا حدث ہے۔غسل غسل کی حکمت : نماز کی حالت باطنی پاکیزگی ، روحانی نشاط ، ظاہری طہارت اور جسمانی مستعدی کی مقتضی ہے۔لیکن جسمانی ناپاکی ، جسم میں گرانی ، نقاہت اور کمزوری روحانی کسلمندی کا موجب بنتی ہے اور نہانے سے یہ کیفیت دور ہو جاتی ہے۔جس میں تازگی قوت و نشاط آ جاتی ہے اور پوری بشاشت کے ساتھ انسان نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہے اور اس طرح جذبات لطیفہ ، ارواح طیبہ اور واردات روحانیہ کا وہ مورد بن جاتا ہے اور یہی نماز کا مقصد اصل ہے۔موجبات مسل :۔جن باتوں کی وجہ سے نہانا ضروری ہو جاتا ہے بغسل انہیں موجبات غسل کہتے ہیں اور وہ یہ ہیں۔