نماز مع ترجمہ اور ضروری مسائل

by Other Authors

Page 6 of 32

نماز مع ترجمہ اور ضروری مسائل — Page 6

8 7 میں دیر تک توجہ قائم رکھنا مشکل ہو جاتا ہے اس سے طبیعت اکتا جاتی ہے لیکن اس کے برعکس اگر وقت مختصر ہو اور وقفہ وقفہ کے بعد کئی بار عبادت بجالانے کا موقع ملے تو بشاشت قائم رہتی ہے۔عبادت سہل ہو جاتی ہے اور عبودیت کے اظہار کا بار بار موقع ملتا ہے۔اس کی یاد دل میں تازہ رہتی ہے اور اس طرح اس کا سارا وقت ہی عبادت الہی میں صرف ہوتا ہے اور انسان دنیا کے کاموں میں مصروف رہنے کے باوجود اللہ تعالیٰ سے غافل نہیں ہوتا اور دنیا میں رہ کر بھی وہ اس سے علیحدہ رہتا ہے اور دست با کار دل با یار کی مثل اس پر صادق آنے لگتی ہے۔اوقات نماز پانی اوقات میں نماز فرض ہے۔جن کی تفصیل یہ ہے۔فجر :۔جب رات ختم ہوتی ہے اور سپیدہ صبح نمودار ہوتا ہے تو اس وقت کو فجر کہتے ہیں اور صبح صادق بھی۔فجر سے لے کر سورج نکلنے سے ذرا پہلے تک اس نماز کا وقت رہتا ہے۔معتدل علاقوں میں یہ وقت ڈیڑھ گھنٹہ کے قریب بنتا ہے۔اس وقت میں دو رکعت نما ز سنت اور دو رکعت نماز فرض با جماعت ادا کی جاتی ہے۔ظہر :۔اس نماز کا وقت سورج ڈھلنے سے شروع ہوتا ہے اور اس وقت تک رہتا ہے جبکہ ہر چیز کا سایہ اس سے دو گنا ہو جائے۔معتدل علاقوں میں یہ وقت تین گھنٹوں کے قریب بنتا ہے۔اس میں چار رکعت نماز سنت۔چار رکعت نماز فرض با جماعت اور پھر دو رکعت نما ز سنت ادا کی جاتی ہے۔جمعہ کی نماز کا بھی یہی وقت ہے۔عصر :۔اس نماز کا وقت ظہر کا وقت ختم ہونے سے شروع ہوتا ہے اور سورج ڈوبنے سے کچھ پہلے تک رہتا ہے۔معتدل علاقوں میں یہ وقت اڑھائی گھنٹے کے قریب بنتا ہے۔اس وقت میں چار رکعت نماز فرض با جماعت ادا کی جاتی ہے۔اگر کوئی چاہے تو فرضوں سے پہلے چار رکعت سنتیں بھی پڑھ سکتا ہے۔مغرب :۔یہ وقت سورج ڈوبنے سے شروع ہوتا ہے اور مغربی افق پر سفیدی غائب ہونے تک رہتا ہے۔معتدل علاقوں میں یہ وقت ڈیڑھ گھنٹے کے قریب بنتا ہے۔اس وقت میں تین رکعت نماز فرض با جماعت ادا کی جاتی ہے۔اس کے بعد دو رکعت سنت اور حسب مرضی نوافل ادا کئے جاتے ہیں۔عشاء :۔مغرب کا وقت ختم ہونے سے عشاء کا وقت شروع ہوتا ہے اور طلوع فجر سے کچھ پہلے تک رہتا ہے۔لیکن بہتر یہ ہے کہ رات کے پہلے حصہ میں یہ نماز پڑھی جائے۔اس وقت میں چار رکعت نماز فرض با جماعت ادا کی جاتی ہے۔اس کے بعد دو رکعت نما ز سنت اور نوافل جتنی رکعات کوئی چاہے پڑھ سکتا ہے۔عشاء کی نماز پڑھنے کے بعد وتروں کا وقت شروع ہو جاتا ہے اور طلوع فجر تک رہتا ہے۔سونے کے بعد اور طلوع فجر سے پہلے اٹھ کر نوافل پڑھنا موجب برکت و ثواب ہے۔ان نوافل کی آٹھ رکعات مسنون ہیں۔جن کو نماز تہجد کہتے ہیں۔قضاء :۔اگر کوئی بھول جائے یا سو جائے اور وقت پر نماز نہ پڑھ سکے تو جس وقت یاد آئے یا بیدا ر ہو اسی وقت تیاری کر کے نماز پڑھ لینی چاہئے۔اس طرح بعد از وقت نماز پڑھنے کو قضاء کہتے ہیں۔غیر معمولی علاقوں میں جہاں دن رات چوبیس گھنٹے سے زیادہ کے ہوں یا دن رات تو چوبیس گھنٹے کے ہوں لیکن ان میں باہمی فرق اتنا زیادہ ہو کہ قرآن وسنت کی رو سے نمازوں کے پانچ معروف اوقات کی جو علامتیں مقرر ہیں وہ نمایاں نہ ہوں اور اوقات کی باہمی تفریق مشکل ہو مثلاً قطب شمالی کے قریب کے ایسے