نماز مع ترجمہ اور ضروری مسائل

by Other Authors

Page 30 of 32

نماز مع ترجمہ اور ضروری مسائل — Page 30

56 55 اغْفِرْ لِي ذُنُوبِى وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ ! ترجمہ : اللہ کے نام کے ساتھ اور آنحضرت ﷺ پر درود اور سلامتی ہو۔اے میرے اللہ میرے گناہ بخش اور میرے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔نوٹ: مسجد سے نکلتے وقت رَحْمَتِكَ کی بجائے فَضْلِكَ کے الفاظ کہے۔نماز جنازہ جب بقضائے قدرت کسی کی وفات کا وقت قریب آ جائے تو اس کے پاس سورہ یسین پڑھی جائے۔دھیمے دھیمے قدرے بلند آواز سے کلمہ طیبہ اور کلمہ شہادت بھی پڑھنا چاہئے۔وفات واقع ہو جانے پر اور ایسی خبر ملنے پر موجود لوگ إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون “ پڑھیں۔مرنے والے کی آنکھوں کو ہاتھ سے بند کر دیں۔سرکو اس طرح باندھ دیں کہ منہ کھلا نہ رہ جائے۔جزع و فزع کی بجائے صبر اور حوصلہ کے ساتھ متعلقین تجہیز و تکفین کا اہتمام کریں۔میت کو غسل دیں اس کا طریق یہ ہے کہ تازہ یا نیم گرم پانی لیں اور پانی میں بیری کے پتے ملانا مسنون ہے۔پہلے وہ اعضاء دھوئے جائیں جو وضو میں دھوئے جاتے ہیں کلی کرانے اور ناک میں پانی ڈالنے یا پاؤں دھونے کی ضرورت نہیں۔اس کے بعد بدن کے دائیں اور بائیں حصہ پر تین بار پانی ڈال کر دھوئیں اور نہلاتے وقت بدن کے واجب الستر حصہ پر کپڑا پڑا رہنا چاہئے۔مردمیت کو مرد اور عورت میت کو عورت نہلائے۔بشرط ضرورت بیوی اپنے متوفی میاں کو نہلا سکتی ہے۔نہلانے کے بعد کفن پہنایا جائے۔جس میں کم قیمت اور سادہ سفید کپڑا ترمذی کتاب الصلواة باب ما يقول عند دخول المسجد استعمال کیا جائے۔مرد کے تین کپڑے کر نہ ، نہ بند اور بڑی چادر جسے لفافہ بھی کہتے ہیں اور عورت کے لئے ان تین کپڑوں کے علاوہ سینہ بند اور سر بند بھی ہونے چاہئیں۔تجہیز و تکفین میں سادگی اختیار کرنا موجب برکت و ثواب ہے۔شہید کو نہلانے اور کفن پہنانے کی ضرورت نہیں۔اسے اپنے پہنے ہوئے کپڑوں میں ہی دفنا یا جائے۔تکفین کے بعد جنازہ کو کندھوں پر اٹھا کر جنازہ گاہ لے جایا جائے۔وہاں نماز جنازہ کے لئے حاضر لوگ امام کے پیچھے صف باندھیں۔طاق صفیں بنائی جائیں۔امام صفوں کے آگے درمیان میں کھڑا ہو۔میت اس کے سامنے ہو۔امام بلند آواز سے تکبیر تحریمہ کہے۔مقتدی بھی آہستہ آواز میں تکبیر کہیں۔اس کے بعد ثناء اور سورۃ فاتحہ آہستہ آواز سے پڑھی جائے۔پھر امام بغیر ہاتھ اٹھائے بلند آواز سے دوسری تکبیر کہے اور مقتدی بھی آہستہ آواز سے تکبیر کہیں۔پھر دورد شریف جو نماز میں پڑھتے ہیں پڑھا جائے۔پھر تیسری تکبیر کہی جائے اور میت کے لئے مسنون دعا کی جائے۔اس کے بعد چوتھی تکبیر کہ کر امام دائیں بائیں بلند آواز سے السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللہ کہے اور مقتدی آہستہ آواز سے سلام کہیں۔بوقت ضرورت کسی غیر معمولی شخصیت کی نماز جنازہ غائب بھی پڑھی جاسکتی ہے۔اسی طرح جس کا جنازہ کسی نے پڑھا نہ ہو یا بہت تھوڑے آدمی جنازہ میں شریک ہو سکے ہوں تو اس کی نماز جنازہ غائب پڑھنا بھی جائز ہے۔نماز جنازہ فرض کفایہ ہے۔یعنی سب مسلمانوں پر بحیثیت مجموعی فرض ہے اگر کچھ لوگ نماز پڑھ لیں تو باقی سبکدوش ہو جائیں گے۔لیکن اگر کوئی نہ پڑھے تو سب گناہ گار ہوں گے۔