نماز اور اُس کے آداب و مسائل — Page 53
تو ہمیں امام کے پیچھے صف باندھ کر کھڑے ہونا چاہیئے۔صف باندھنے کا مطلب ہے ایک قطار میں کندھے سے کندھا ملا ہوا ہو۔جب کھڑے ہوں تو پاؤں دوسرے لوگوں کے پاؤں سے آگے بڑھے ہوئے نہ ہوں۔اگر التحیات کی حالت میں دو زانو ہوں تو گھٹنے دو کہ لوگوں کے گھٹنوں سے آگے بڑھے ہوتے نہ ہوں۔اگر قطار میں جگہ چھٹی رہے گی تو وہاں شیطان اپنی جگہ بنا لے گا اس لئے بالکل ساتھ ساتھ لگ کر کھڑے ہوں اگلی قطاریں پہلے پر کریں۔اگر نماز فجر با جماعت ادا کر رہے ہوں امام سورۃ فاتحہ اور قرآن کریم کا حصہ بلند آواز سے پڑھتا ہے اور نماز پڑھنے والے جنہیں نمازی کہا جاتا ہے سورۃ فاتحہ آہستہ آہستہ ساتھ پڑھتے ہیں مگر قرآن کا حصہ یا سورۃ خاموشی سے سنتے ہیں۔ظہر اور عصر کی تمام رکھتیں امام آہستہ آہستہ پڑھاتا ہے اسی طرح نمازی بھی خاموشی سے پڑھتے ہیں۔امام بلند آواز سے صرف اللہ اکبر کہتا ہے رکوع وغیرہ میں جانے کے لئے۔عدنان سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ بھی تو کہتا ہے۔با جی ہاں ہاں سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَلا تو ہر نماز میں ہی کہتا ہے۔نماز مغرب اور نماز عشاء میں پہلی دو رکھتیں امام بلند آواز سے سورۃ فاتحہ اور قرآن کریم پڑھتا ہے نمازی امام کے پیچھے کھڑے ہوتے ہیں۔وہ سورۃ فاتحہ کو آہستہ آہستہ ساتھ پڑھتے ہیں اور قرآن کریم