نماز اور اُس کے آداب و مسائل — Page 20
پھر نیت کی دعا پڑھتے ہیں۔اس سے ہم خدا تعالیٰ سے مدد مانگتے ہیں کہ وہ ہمیں ایسی نماز پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے جو اُسے پسند آئے۔اس طرح ہمارے خیالات ، ہماری سوچ ، ہمارا جسم ، ہمارا دل اور ہمارا دماغ سب خدا تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے اور ہم بڑے ادب سے نماز شروع کرتے ہیں۔ہاتھ اُٹھا کر کانوں تک لے جاکر اللہ اکبر کہتے ہیں۔یعنی ہم یہ بتا دیتے ہیں کہ اس دنیا سے تھوڑی دیر کے لئے رخصت ہو کر اس خدا کے حضور حاضر ہو رہے ہیں جو سب سے بڑا ہے۔باجی اب میں آپ کو نماز کا باقاعدہ طریق سمجھاڑی گی اگر آپ کے ذہن میں کوئی سوال ہو تو آپ پوچھ سکتے ہیں۔رانی باجی ہم یہ سب سوچ کہ نماز شروع کرتے ہیں۔پھر بھی نماز میں بہت سی دوسری باتیں یاد آتی ہیں۔اور ہم کچھ سے کچھ سوچنے لگتے ہیں۔باجی آپ نے بالکل صحیح کہا۔اس کے لئے ہم کچھ تدبیریں کر سکتے ہیں۔مثلاً نماز ہم سب کے درمیان نہ پڑھیں۔بلکہ کسی کونے میں جا کر جہاں شور اور باتیں اپنی طرف متوجہ نہ کریں پھر بھی توجہ قائم نہ ہو تو۔نماز کا ترجمہ ذہن میں لائیں۔پھر بھی اگر توجہ بہٹ جائے تو خدا تعالی بہت رحم کرنے والا ہے وہ معاف کر دیتا ہے۔اپنی کوشش کریں اور خدا تعالیٰ کی رحمت پر بھروسہ رکھیں۔ہاں اس سوال سے ایک بات اور واضح کر دوں کہ آپ بھی اس بات کا خیال رکھیں کہ جب کوئی نماز پڑھ رہا ہو تو شور نہ کریں۔اور آگے سے نہ گزریں۔