نماز اور اُس کے آداب و مسائل

by Other Authors

Page 18 of 62

نماز اور اُس کے آداب و مسائل — Page 18

نماز کے آداب باجی جائے نماز پر کھڑے ہو کر صرف خدا تعالیٰ کے متعلق سوچئے۔ہم بادشاہوں کے بادشاہ کے سامنے حاضر ہونے لگے ہیں۔جب ہم نماز کی نیت یعنی ارادہ کرتے ہیں تو خدا تعالیٰ کے سامنے حاضر ہو جاتے ہیں بہت ادب سے کھڑے ہوں۔کسی دوسری طرف توجہ نہ ہو۔اب خدا تعالیٰ ہمیں دیکھ رہا ہے۔دیسے تو وہ ہر وقت ہمیں دیکھتا ہے مگر نماز کی نیت کی دعا پڑھ کر ہم اس کے دربار میں حاضر ہو جاتے ہیں۔نماز شروع کر کے صرف سجدہ گاہ کی طرف دیکھنا چاہیئے۔دائیں بائیں دیکھنا منع ہے۔اسی طرح غیر ضروری حرکتیں کرنا مثلاً بدن کھانا یا کپڑے بلا وجہ درست کرنا ، کندھے اچکانا ، پنجوں یا ایڑیوں کے بل کھڑے ہونا بھی منع ہے۔نماز میں الفاظ ٹھہر ٹھہر کر مجھ سمجھ کر ادا کرنے چاہئیں تکہ نماز سمجھ بھی آئے جس طرح آپ کسی سہیلی یا دوست کے گھر جاتے ہیں تو اطمینان سے دل بھر کے باتیں کرتے ہیں۔نہ کہ رٹا رٹایا پیغام منا کے آجاتے ہیں۔اسی طرح بڑے ادب اور اطمینان سے ، پیار سے نماز ادا کیجئے تاکہ خدا تعالیٰ آپ سے خوش ہو اور آپ کو انعامات عطا فرمائے۔اگر کھانا سامنے رکھا ہو تو پہلے کھانا کھا لیں پھر اطمینان سے نماز پڑھیں۔اسی طرح اگر غسل خانے جانے کی ضرورت ہو تو پہلے ضرورت سے فارغ ہو لیں تاکہ نماز خراب نہ ہو جائے۔نماز کی نیت باجی جائے نماز پر قبلہ رخ کھڑے ہو کر نماز شروع کرنے سے پہلے نیت کی دُعا پڑھی جاتی ہے۔ΙΑ