نماز عبادت کا مغز ہے

by Other Authors

Page 161 of 274

نماز عبادت کا مغز ہے — Page 161

161 اور لغو باتیں اور لغو سیر و تماشے اُنکے گلے کا ہار ہو جاتے ہیں۔جن سے سمجھا جاتا ہے۔کہ کچھ بھی اُن کو خدا تعالیٰ سے تعلق نہیں اور نہ خدا تعالیٰ کی عظمت اور ہیبت کچھ اُن کے دلوں میں ہے۔پس یہ عجیب تماشہ ہے کہ ایسے گندے نفسوں کیساتھ بھی خشوع اور سوز و گداز کی حالت جمع ہو جاتی ہے اور یہ عبرت کا مقام ہے۔اور اُس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ مجرد خشوع اور گریہ و زاری کہ جو بغیر ترک لغویات ہو کچھ فخر کرنے کی جگہ نہیں اور نہ یہ قرب الہی اور تعلق یا اللہ کی کوئی علامت ہے۔(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد 21 ص 193 تا194) خشوع کی حالت اس وقت تک خطرہ سے خالی نہیں جب تک رحیم خدا سے تعلق نہ پکڑے دراصل خشوع اور رقت مومن کے روحانی وجود کی تخلیق کا پہلا درجہ ہے چنانچہ حضور فرماتے ہیں:۔۔۔۔اور اول مرتبہ مومن کے روحانی وجود کا وہ خشوع اور رقت اور سوز و گداز کی حالت ہے جو نماز اور یاد الہی میں مومن کو میسر آتی ہے۔یعنی گدازش اور رقت اور فروتنی اور عجز و