نماز عبادت کا مغز ہے

by Other Authors

Page 55 of 274

نماز عبادت کا مغز ہے — Page 55

55 رقت اور انکساری پیدا ہو جاتی ہے۔اسی طرح پر سوچو کہ اگر مثلاً کسی شخص پر مالش ہو تو سمن یا وارنٹ آنے پر اس کو معلوم ہوگا کہ فلاں دفعه فوجداری یا دیوانی میں نائش ہوئی ہے، اب بعد مطالعہ ء وارنٹ اسکی حالت میں گویا نصف النہار کے بعد زوال شروع ہوا، کیونکہ وارنٹ یاسمن تک تو اُسے کچھ معلوم نہ تھا۔اب خیال پیدا ہوا کہ خدا جانے ادھر وکیل ہو یا کیا ہو ؟ اس قسم کے تردّدات اور تفکرات سے جو زوال پیدا ہوتا ہے یہ وہی حالت ڈلوک ہے اور یہ پہلی حالت ہے جو نماز ظہر کے قائمقام ہے۔اور اسکی عکسی حالت نماز ظہر ہے۔اب دوسری حالت اس پر وہ آتی ہے جبکہ وہ کمرہ عدالت میں کھڑا ہے۔فریق مخالف اور عدالت کیطرف سے سوالات جرح ہورہے ہیں اور وہ ایک عجیب حالت ہوتی ہے۔یہ وہ حالت اور وقت ہے جو نماز عصر کا نمونہ ہے، کیونکہ عصر گھوٹنے اور نچوڑنے کو کہتے ہیں۔جب حالت اور بھی نازک ہوجاتی ہے اور فرد قراردادِ مُجرم لگ جاتی ہے، تو پاس اور نا اُمیدی بڑھتی ہے۔کیونکہ اب خیال ہوتا ہے کہ سزا مل جاوے گی۔یہ وہ وقت ہے۔جو مغرب کی نماز کا عکس ہے پھر جب حکم سنایا گیا اور کانٹیبل یا کورٹ انسپیکٹر کے حوالہ کیا گیا، تو وہ روحانی طور پر نماز عشاء کی عکسی تصویر ہے۔