نماز عبادت کا مغز ہے

by Other Authors

Page 36 of 274

نماز عبادت کا مغز ہے — Page 36

36 بتاؤ اس میں کیا لذت اور حظ آسکتا ہے ؟ اور جب تک لذت اور سُرور نہ آئے اسکی حقیقت کیونکر مستحق ہوگی اور یہ اُسوقت ہوگا جبکہ روح بھی ہمہ نیستی اور تذلل تام ہوکر آستانہ الوہیت پر گرے اور جو زبان بولتی ہے ، روح بھی بولے۔اسوقت ایک سرور اور نور اور تسکین حاصل ہو جاتی ہے۔میں اس کو اور کھول کر لکھنا چاہتا ہوں کہ انسان جس قدر مراتب طے کر کے انسان ہوتا ہے یعنی کہاں نطفہ بلکہ اس سے بھی پہلے نطفہ کے اجزاء یعنی مختلف قسم کی اغذیہ اور اُن کی ساخت اور بناوٹ پھر نطفہ کے بعد مختلف مدارج کے بعد بچہ پھر جوان۔بوڑھا غرض اِن تمام عالموں میں جو اس پر مختلف اوقات میں گذرے ہیں اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا معترف ہو اور وہ نقشہ ہر آن اس کے ذہن میں کھنچا رہے۔تو بھی وہ اس قابل ہو سکتا ہے کہ ربوبیت کے مد مقابل میں اپنی عبودیت کو ڈال دے۔غرض مدعا یہ ہے کہ نماز میں لذت اور سُرور بھی عبودیت اور ربوبیت کے ایک تعلق سے پیدا ہوتا ہے۔جب تک اپنے آپ کو عدم محض یا مشابہ بالعدم قرار دے کر جو ربوبیت کا ذاتی تقاضہ ہے نہ ڈال دے۔اُس کا فیضان اور پر تو اس پر نہیں پڑتا۔اور اگر ایسا ہو تو پھر اعلیٰ درجہ کی لذت حاصل ہوتی ہے