نماز عبادت کا مغز ہے — Page 25
25 سوزش، رقت اور درد ساتھ ہو۔خدا تعالیٰ کسی دُعا کو نہیں سنتا جب تک دُعا کرنے والا موت تک نہ پہنچ جاوے۔دُعا مانگنا ایک مشکل امر ہے۔اور لوگ اس کی حقیقت سے محض ناواقف ہیں۔بہت سے لوگ مجھے خط لکھتے ہیں کہ ہم نے فلاں وقت فلاں امر کے لیے دُعا کی تھی مگر اسکا اثر نہ ہوا۔اور اس طرح پر وہ خدا تعالیٰ سے بدظنی کرتے ہیں۔اور مایوس ہوکر ہلاک ہو جاتے ہیں۔وہ نہیں جانتے کہ جب تک دُعا کے لوازم ساتھ نہ ہوں وہ دُعا کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔۔دُعا کے لوازم میں سے یہ ہے کہ دل پگھل جاوے اور روح پانی کی طرح حضرتِ احدیت کے ساتھ آستانہ پر گرے اور ایک کرب اور اضطراب اس میں پیدا ہو اور ساتھ ہی انسان بے صبر اور جلد باز نہ ہو بلکہ صبر اور استقامت کے ساتھ دُعا میں لگار ہے پھر توقع کی جاتی ہے کہ وہ دُعا قبول ہوگی۔نماز بڑی اعلیٰ درجہ کی دُعا ہے مگر افسوس لوگ اس کی قدر نہیں جانتے اور اس کی حقیقت صرف اتنی ہی سمجھتے ہیں کہ رسمی طور پر قیام ، رکوع ، سجود کر لیا اور چند فقرے طوطے کی طرح رٹ لیے خواہ اسے سمجھیں نہ سمجھیں۔ایک اور افسوس ناک امر پیدا ہو گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ پہلے ہی مسلمان نماز کی حقیقت سے