نماز عبادت کا مغز ہے — Page 234
234 ہے۔دیندار ہے۔اس سے ہم کو آپ کے حالات معلوم ہوئے تو ہمارا عقیدہ یہ ہو گیا ہے کہ حضور بڑے ہی خیر خواہ اُمت محمدیہ و مداح جناب رسول مقبول و اصحاب کبار ہیں۔آپ کو جو بُرے نام سے یاد کرے وہ خود بُرا ہے مگر باوجود ہمارے اس عقیدہ و خیال کے نور محمد مذکور ہمارے ساتھ باجماعت نماز نہیں پڑھتا اور نہ جمعہ پڑھتا ہے اور وجہ یہ بتلاتا ہے کہ غیر احمدی کے پیچھے ہماری نماز نہیں ہوتی آپ اس کو تاکید فرماویں کہ وہ ہمارے پیچھے نماز پڑھ لیا کرے تا کہ تفرقہ نہ پڑے کیونکہ ہم آپ کے حق میں بُرا نہیں کہتے۔( یہ اس خط کا اقتباس اور خلاصہ ہے) اس کے جواب میں اسی خط پر حضرت نے عاجز کے نام تحریر فرمایا: جواب میں لکھ دیں کہ چونکہ عام طور پر اس ملک کے ملاں لوگوں نے اپنے تعصب کیوجہ سے ہمیں کافر ٹھہرایا ہے۔اور فتوے لکھے ہیں اور باقی لوگ اُن کے پیرو ہیں۔پس اگر ایسے لوگ ہوں کہ وہ صفائی ثابت کرنے کیلئے اشتہار دے دیں کہ ہم ان مکفر مولویوں کے پیرونہیں ہیں تو پھر ان کے ساتھ نماز پڑھنا روا ہے ورنہ جو شخص مسلمانوں کو کافر کہے وہ آپ کا فر ہو جاتا ہے پھر اس کے پیچھے نماز کیونکر پڑھیں۔یہ تو شرع