نماز عبادت کا مغز ہے — Page 220
220 مفر ہے۔فرمایا! شریعت نے ان باتوں کا اعتبار نہیں کیا۔صحابہ کرام نے تین کوس کو بھی سفر سمجھا ہے۔عرض کیا گیا! حضور بٹالہ جاتے ہیں تو قصر فرماتے ہیں۔فرمایا : ہاں کیونکہ وہ سفر ہے۔ہم تو یہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی طبیب یا حاکم بطور دورہ کئی گاؤں میں پھرتا ہے تو وہ اپنے تمام سفر کو جمع کر کے اسے سفر نہیں کہہ سکتا۔مرکز میں نمازوں کا قصر ( ملفوظات جلد پنجم، ص 426) نماز کے قصر کرنے کے متعلق سوال کیا گیا کہ جو شخص یہاں آتے ہیں وہ قصر کریں یا نہ ؟ فرمایا: " جو شخص تین دن کے واسطے یہاں آوے اس کے واسطے قصر جائز ہے۔میری دانست میں جس سفر میں عزم سفر ہو، پھر خواہ وہ دو تین چار کوس کا ہی سفر کیوں نہ ہو اس میں قصر جائز ہے۔یہ ہماری سیر سفر نہیں ہے۔ہاں اگر امام مقیم ہو تو اس کے پیچھے پوری ہی نماز پڑھنی چاہیے۔حکام کا دورہ سفر نہیں ہو سکتا۔وہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی اپنے باغ کی سیر کرتا ہے۔خوانخواہ قصر