نماز عبادت کا مغز ہے — Page 211
211 کسی نہ کسی وقت کچھ دے دیتا ہے اور رقم کھاتا ہے خدا تعالیٰ تو خود حکم دیتا ہے کہ مجھ سے مانگو اور میں تمہیں دوں گا۔جب کبھی کسی امر کے واسطے دُعا کی ضرورت ہوتی ہے تو رسول اللہ ہے کا یہی طریق تھا کہ آپ وضو کر کے نماز میں کھڑے ہو جاتے اور نماز کے اندر دُعا کرتے۔دُعا کے معاملے میں حضرت عیسی نے خوب مثال بیان کی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ایک قاضی تھا جو کسی کا انصاف نہ کرتا تھا اور رات دن اپنی عیش میں مصروف رہتا تھا۔ایک عورت جس کا ایک مقدمہ تھا وہ ہر وقت اس کے دروازے پر آتی اور اس سے انصاف چاہتی۔وہ برابر ایسا کرتی رہی۔یہائک کہ قاضی تنگ آگیا اور اس نے بالآخر اس مقدمہ کا فیصلہ کیا اور اس کا انصاف اسے دیا۔دیکھو کیا تمہارا خدا قاضی جیسا بھی نہیں کہ وہ تمہاری دُعائنے اور تمہیں تمہاری مراد عطا کرے۔ثابت قدمی کے ساتھ دُعا میں مصروف رہنا چاہیے۔قبولیت کا وقت بھی ضرور آہی جائیگا استقامت شرط ہے۔(ملفوظات جلد پنجم ص 44 تا45)