نماز عبادت کا مغز ہے — Page 210
210 ہے۔رقت کے ساتھ دُعا نہیں وہ نماز تو خود ہی ٹوٹی ہوئی نماز نماز وہ ہے جس میں دُعا کا مزہ آجاوے۔خدا تعالیٰ کے حضور میں ایسی توجہ سے کھڑے ہو جاؤ کہ رقت طاری ہو جائے جیسے کہ کوئی شخص کسی خوفناک مقدمہ میں گرفتار ہوتا ہے اور اُس کے واسطے قید یا پھانسی کا فتویٰ لگنے والا ہوتا ہے۔اس کی حالت حاکم کے سامنے کیا ہوتی ہے۔ایسے ہی خوفزدہ دل کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہونا چاہیے۔جس نماز میں دل کہیں ہے اور خیال کسی طرف ہے اور منہ سے کچھ نکلتا ہے وہ ایک لعنت ہے جو آدمی کے منہ پر واپس ماری جاتی ہے اور قبول نہیں ہوتی۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔وَيْلٌ لِلْمُصَلِّينَ الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلاتِهِمُ سَاهُونَ (الماعون) لعنت ہے اُن پر جو اپنی نماز کی حقیقت سے ناواقف ہیں۔نماز وہی اصلی ہے جس میں مزا آجاوے۔ایسی ہی نماز کے ذریعہ سے گناہ سے نفرت پیدا ہوتی ہے اور یہی وہ نماز ہے جس کی تعریف میں کہا گیا ہے کہ نماز مومن کا معراج ہے۔نماز مومن کے واسطے ترقی کا ذریعہ ہے۔إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيَاتِ (ھود : 115) نیکیاں بدیوں کو دور کر دیتی ہیں۔دیکھو بخیل سے بھی انسان مانگتا رہتا ہے تو وہ بھی