نماز عبادت کا مغز ہے

by Other Authors

Page 198 of 274

نماز عبادت کا مغز ہے — Page 198

198 تنویر قلب ہو جاتی ہے۔مگر یہاں تو پچاس پچاس برس تک نماز پڑھنے والے دیکھے گئے ہیں کہ بدستور روبہ دنیا اور سفلی زندگی میں نگونسار ہیں اور انھیں نہیں معلوم کہ وہ نمازوں میں کیا پڑھتے ہیں اور استغفار کیا چیز ہے اس کے معنوں پر بھی انہیں اطلاع نہیں ہے۔طبیعتیں دو قسم کی ہیں۔ایک وہ جو عادت پسند ہوتی ہیں جیسے اگر ہندو کا کسی مسلمان کے ساتھ کپڑا بھی چھو جائے تو وہ اپنا کھانا پھینک دیتا ہے، حالانکہ اس کھانے میں مسلمان کا کوئی اثر سرایت نہیں کر گیا۔زیادہ تر اس زمانہ میں لوگوں کا یہی حال ہو رہا ہے کہ عادت اور رسم کے پابند ہیں اور حقیقت سے واقف اور آشنا نہیں ہیں۔جو شخص دل میں یہ خیال کرے کہ یہ بدعت ہے کہ نماز کے پیچھے دُعا نہیں مانگتے بلکہ نمازوں میں دُعائیں کرتے ہیں۔یہ بدعت نہیں۔پیغمبر خدا کے زمانہ میں آنحضرت اللہ نے ادعیہ عربی میں سکھائی وسام تھیں جو ان لوگوں کی اپنی مادری زبان تھی۔اسی لیے ان کی ترقیات جلد ہوئیں۔لیکن جب دوسرے ممالک میں اسلام پھیلا تو وہ ترقی نہ رہی۔اس کی یہی وجہ تھی کہ اعمال رسم و عادت کے طور پر رہ گئے۔ان کے نیچے جو حقیقت اور مغز تھا وہ نکل گیا۔اب دیکھ لو مثلاً ایک افغان نماز تو پڑھتا ہے، لیکن وہ اثر نماز