نماز عبادت کا مغز ہے — Page 176
176 نماز بھی اضطرابی حالت کو ظاہر کرتی ہے دیکھو یہ جو نماز پڑھی جاتی ہے اسمیں بھی ایک طرح کا اضطراب ہے۔کبھی کھڑا ہونا پڑتا ہے۔کبھی رکوع کرنا پڑتا ہے اور کبھی سجدہ کرنا پڑتا ہے اور پھر طرح طرح کی احتیاطیں کرنی پڑتی ہیں۔مطلب ہی ہوتا ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کے لیے دکھ اور مصیبت کو برداشت کرنا سیکھے ورنہ ایک جگہ بیٹھ کر بھی تو خدا تعالیٰ کی یاد ہوسکتی تھی۔پر خدا تعالیٰ نے ایسا منظور نہیں کیا۔صلوۃ کا لفظ ہی سوزش پر دلالت کرتا ہے جب تک انسان کے دل میں ایک قسم کا قلق اور اضطراب پیدا نہ ہو اور خدا تعالیٰ کے لیے اپنے آرام کو نہ چھوڑے جب تک کچھ بھی نہیں۔ہم جانتے ہیں کہ بہت سے لوگ فطرتاً اس قسم کے ہوتے ہیں جو ان باتوں میں پورے نہیں اتر سکتے اور پیدائشی طور پر ہی اُن میں ایسی کمزوریاں پائی جاتی ہیں جو وہ ان امور میں استقلال نہیں دکھا سکتے مگر تا ہم بھی تو بہ اور استغفار بہت کرنا چاہیے کہ کہیں ہم ان میں ہی شامل نہ ہو جاویں جو دین سے بالکل بے پرواہ ہوتے ہیں اور اپنا مقصود بالذات دُنیا کو ہی سمجھتے ہیں۔( ملفوظات جلد پنجم ،ص331)