نماز عبادت کا مغز ہے — Page 172
172 سے بھری ہوئی یاد الہی جس کا شرعی اصطلاح میں نماز نام ہے غذا کے قائم مقام ہو جاتی ہے بلکہ وہ بار بار جسمانی روح کو بھی اس غذا پر فدا کرنا چاہتا ہے اور وہ اس کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا جیسا کہ مچھلی بغیر پانی کے زندہ نہیں رہ سکتی اور خدا سے علیحدہ ایک دم بھی بسر کرنا اپنی موت سمجھتا ہے اور اس کی روح آستانہ ا الہی پر ہر وقت سجدہ میں رہتی ہے اور تمام آرام اُس کا خدا ہی میں ہوجاتا ہے اور اس کو یقین ہوتا ہے کہ میں اگر ایک طرفه العین بھی یاد الہی سے الگ ہوا تو بس میں مرا۔اور جس طرح روٹی سے جسم میں تازگی اور آنکھ اور کان وغیرہ اعضاء کی قوتوں میں توانائی آجاتی ہے اسی طرح اس مرتبہ پر یاد الہی جو عشق اور محبت کے جوش سے ہوتی ہے مومن کی روحانی قوتوں کو ترقی دیتی ہے یعنی آنکھ میں قوت کشف نہایت صاف اور لطیف طور پر پیدا ہو جاتی ہے اور کان خدا تعالیٰ کے کلام کو سُنتے ہیں اور زبان پر وہ کلام نہایت لذیذ اور اجلی اور اصفی طور جاری ہو جاتا ہے اور رویائے صادقہ بکثرت ہوتے ہیں جو خلق صبح کی طرح ظہور میں آجاتے ہیں اور بباعث علاقہ صافیہ محبت جو حضرت عزہ سے ہوتا ہے مبشر خوابوں سے بہت سا حصہ اُن کو ملتا ہے۔یہی وہ مرتبہ ہے جس مرتبہ پر مومن کو محسوس ہوتا ہے