نماز عبادت کا مغز ہے — Page 171
171 ایک ضروری غذا مقرر کر دیا ہے اور اپنی محبت ذاتیہ سے ان پر تجلی فرما کر یاد الہی کی ایک دلکش لذت ان کو عطا کی ہے۔پس اس وجہ سے یاد الہی جان کی طرح بلکہ جان سے بڑھ کو ان کو عزیز ہوگئی ہے اور خدا کی ذاتی محبت ایک نئی روح ہے جو شعلہ کی طرح ان کے دلوں پر پڑتی ہے اور ان کی نماز اور یاد الہی کو ایک غذا کی طرح ان کے لیے بنادیتی ہے، پس وہ یقین رکھتے ہیں کہ اُن کی زندگی روٹی اور پانی سے نہیں، بلکہ نماز اور یاد الہی سے جیتے ہیں۔غرض محبت سے بھری ہوئی یاد الہی جس کا نام نماز ہے وہ درحقیقت ان کی غذا ہو جاتی ہے۔جس کے بغیر وہ جی ہی نہیں سکتے اور جس کی محافظت اور نگہبانی بعینہ اس مسافر کی طرح وہ کرتے رہتے ہیں جو ایک دشت بے آب و دانہ میں اپنی چند روٹیوں کی محافظت کرتا ہے۔جو اس کے پاس ہیں اور اپنے کسی قدر پانی کو جان کے ساتھ رکھتا ہے جو اس کی مشک میں ہے۔واہب مطلق نے انسان کی روحانی ترقیات کیلئے یہ بھی ایک مرتبہ رکھا ہوا ہے جو محبت ذاتی اور عشق کے غلبہ اور استیلاء کا آخری مرتبہ ہے اور در حقیقت اس مرتبہ پر انسان کیلئے محبت