نماز عبادت کا مغز ہے

by Other Authors

Page 162 of 274

نماز عبادت کا مغز ہے — Page 162

162 نیاز رُوح کا انکسار اور ایک تڑپ اور قلق اور تپش اپنے اندر پیدا کرنا اور ایک خوف کی حالت اپنے پر وارد کر کے خدائے عزوجل کی طرف دل کو جھکانا جیسا کہ اس آیت میں بیان فرمایا گیا ہے۔قَدْ أَفْلَحَ الْمُومِنُونَ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَوْ تِهِمْ خَاشِعُونَ یعنی وہ مومن مُراد پاگئے جو اپنی نمازوں میں اور ہر ایک طور کی یاد الہی میں فروتنی اور بجز و نیاز اختیار کرتے ہیں اور رقت اور سوز و گداز اور قلق اور کرب اور دلی جوش سے اپنے رب کے ذکر میں مشغول ہوتے ہیں۔یہ خشوع کی حالت جس کی تعریف کا اوپر اشارہ کیا گیا ہے روحانی وجود کی تیاری کے لیے پہلا مرتبہ ہے یا یوں کہو کہ وہ پہلا تخم ہے جو عبودیت کی زمین میں بویا جاتا ہے اور وہ اجمالی طور پر اُن تمام قومی اور صفات اور اعضاء اور تمام نقش و نگار اور حسن و جمال اور خط و خال اور شمائل روحانیہ پر مشتمل ہے جو پانچویں اور چھٹے درجہ میں انسانِ کامل کیلئے نمودار طور پر ظاہر ہوتے اور اپنے دلکش پیرا یہ میں کلی فرماتے ہیں۔اور چونکہ وہ نطفہ کی طرح روحانی وجود کا پہلا مرتبہ ہے اس لیے وہ آیت قرآنی میں نطفہ کی طرح پہلے مرتبہ پر رکھا گیا ہے۔اور نطفہ کے مقابل پر دکھا یا گیا