نماز عبادت کا مغز ہے — Page 130
130 اُسے اِسے چھوڑنے کے وقت حسرت بھی زیادہ ہوگی۔اور یہ حسرت ایسی ہے کہ خواہ آخرت پر ایمان نہ بھی ہو تب بھی اس کا اثر ضرور ہوتا ہے اور اس سے امن اس وقت ملتا ہے کہ جب فانی خوشحالی نہ ہو بلکہ سچی خوشحالی ہو۔بعض آدمیوں کو بیماریوں ، بعض کو دوسری تکالیف سے خدا تعالیٰ کیطرف رجوع ہوتا ہے۔( ملفوظات جلد دوم ،ص 655 تا 656) نماز میں لذت نہ آنے کی وجہ اور اُس کا علاج غرض میں دیکھتا ہوں کہ لوگ نمازوں میں غافل اور سُست اس لیے ہوتے ہیں کہ اُن کو اس لذت اور سرور سے اطلاع نہیں جو اللہ تعالیٰ نے نماز کے اندر رکھا ہے اور بڑی بھاری وجہ اس کی یہی ہے پھر شہروں اور گاؤں میں تو اور بھی سُستی اور غفلت ہوتی ہے سو پچاسواں حصہ بھی تو پوری مستعدی اور سچی محبت سے اپنے مولا حقیقی کے حضور سر نہیں جُھکا تا۔پھر سوال یہی پیدا ہوتا ہے کہ کیوں؟ اُن کو اس لذت کی اطلاع نہیں اور نہ کبھی انہوں نے اس مزہ کو چکھا اور مذاہب میں ایسے احکام نہیں ہیں۔کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ہم اپنے کاموں میں مبتلا ہوتے ہیں اور مئوذن اذان دے دیتا ہے۔پھر وہ سننا