نماز عبادت کا مغز ہے

by Other Authors

Page 37 of 274

نماز عبادت کا مغز ہے — Page 37

37 جس سے بڑھ کر کوئی حق نہیں ہے۔فضائل نماز ( ملفوظات جلد اوّل ،ص 104 تا 105) نماز خدا کا حق ہے اُسے خوب ادا کرو۔اور خدا کے دشمن سے مداہنہ کی زندگی نہ ہر تو۔وفا اور صدق کا خیال رکھو۔اگر سارا گھر غارت ہوتا ہو تو ہونے دو مگر نماز کو ترک مت کرو۔وہ کافر اور منافق ہیں جو کہ نماز کو منحوس کہتے ہیں۔اور کہا کرتے ہیں کہ نماز کے شروع کرنے سے ہمارا فلاں نقصان ہوا ہے۔نماز ہرگز خدا کے غضب کا ذریعہ نہیں ہے۔جو اُسے منحوس کہتے ہیں اُن کے اندر خود زہر ہے جیسے بیمار کو شیرینی کڑوی لگتی ہے۔ویسے ہی اُن کو نماز کا مزا نہیں آتا۔یہ دین کو درست کرتی ہے اخلاق کو درست کرتی ہے۔دُنیا کو درست کرتی ہے۔نماز کا مزا دنیا کے ہر ایک مزے پر غالب ہے۔لذات جسمانی کے لیے ہزاروں خرچ ہوتے ہیں اور پھر ان کا نتیجہ بیماریاں اور ہوتی ہیں۔مفت کا بہشت ہے۔جو اُسے ملتا ہے۔قرآن شریف میں دوجنتوں کا ذکر ہے۔ایک ان میں سے دنیا کی جنت ہے اور وہ نماز کی لذت ہے۔( ملفوظات جلد سوم ،ص 592،591)