نماز عبادت کا مغز ہے — Page 253
253 ٹھہر جاؤ۔ڈاکٹر صاحب دورکعت ادا کر لیویں“ پھر اس کے بعد جماعت دوسری نماز کی ہوئی۔ایسی حالت جمع میں سنت اور نوافل ادا نہیں کیے جاتے۔( ملفوظات جلد چہارم ص 85 تا 86 ) نماز ظہر کے بارہ میں حضور کا طریق فرمایا مولوی نورالدین صاحب کو بلاؤ کہ نماز پڑھی جاوے مولوی صاحب بلائے گئے۔اور ڈیڑھ بجے نماز ظہر ادا کی گئی۔فرض کی نماز باجماعت ادا کر کے حضرت اندر تشریف لے گئے۔حضرت اقدس کا مدام یہ اُصول ہے کہ آپ ظہر کی پہلی رستیں گھر میں ادا کر کے باہر تشریف لاتے ہیں۔پچھلی دوستیں بھی جاکر اندر پڑھتے ہیں اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ اگر ادائے فرض کے بعد مسجد میں بیٹھنا منظور ہو تو پچھلی دوستیں فرضوں کے بعد مسجد میں ہی ادا فرماتے ہیں۔کسی اہم کام کیلئے نماز توڑنا ( ملفوظات جلد پنجم ص 143) افریقہ سے ڈاکٹر محمد علی خاں صاحب نے استفسار کیا کہ اگر ایک احمدی بھائی نماز پڑھ رہا ہو اور باہر سے اس کا افسر