نماز عبادت کا مغز ہے — Page 197
197 بارگاہِ رَبُّ العزة میں عرض کرنا چاہیے۔میں نے بار ہا سمجھایا ہے کہ نماز کا تعہد کرو۔جس سے حضور اور ذوق پیدا ہو۔فریضہ تو جماعت کے ساتھ پڑھ لیتے ہیں۔باقی نوافل اور سکن کو جیسا چاہو طول دو اور چاہیے کہ اس میں گریہ و بکا ہو، تا کہ وہ حالت پیدا ہو جاوے جو نماز کا اصل مطلب ہے۔نماز ایسی شئے ہے کہ سیئات کو دور کر دیتی ہے۔جیسے فرمایا: إِنَّ الْحَسَنتِ يُذْهِينَ السَّيِّئَاتِ (عود : 115) نماز گل بدیوں کو دور کر دیتی ہے۔حسنات سے مُراد نماز ہے، مگر آجکل یہ حالت ہو رہی ہے کہ عام طور پر نمازی کو مکار سمجھا جاتا ہے، کیونکہ عام لوگ بھی جانتے ہیں کہ یہ لوگ جو نماز پڑھتے ہیں۔یہ اسی قسم کی ہے جس پر خدا نے واویلا کیا ہے، کیونکہ اس کا کوئی نیک اثر اور نیک نتیجہ مترتب نہیں ہوتا۔نرے الفاظ کی بحث میں پسند نہیں کرتا۔آخر مرکز خدا تعالیٰ کے حضور جانا ہے۔دیکھو ایک مریض جو طبیب کے پاس جاتا ہے اور اس کا نسخہ استعمال کرتا ہے۔اگر دس میں دن تک اس سے کوئی فائدہ نہ ہو تو وہ سمجھتا ہے کہ تشخیص یا علاج میں کوئی غلطی ہے پھر یہ کیا اندھیر ہے کہ سالہا سال سے نمازیں پڑھتے ہیں اور اس کا کوئی اثر محسوس اور مشہور نہیں ہوتا۔میرا تو یہ مذہب ہے کہ اگر دس دن بھی نماز کو سنوار کر پڑھیں تو