نماز عبادت کا مغز ہے

by Other Authors

Page 196 of 274

نماز عبادت کا مغز ہے — Page 196

196 اپنی زبان میں دُعا باب XXIII ایک سوال کے جواب میں حضرت اقدس نے فرمایا:۔۔۔ہ ہم نے اپنی جماعت کو کہا ہوا ہے کہ طوطے کی طرح مت پڑھو سوائے قرآن شریف کے جو رب جلیل کا کلام ہے اور سوائے ادعیہ ماثورہ کے جو نبی کریم ﷺ کا معمول تھیں۔نماز بابرکت نہ ہوگی جب تک اپنی زبان میں اپنے مطالب بیان نہ کرو۔اس لیے ہر شخص کو جو عربی زبان نہیں جانتا ضروری ہے کہ اپنی زبان میں اپنی دعاؤں کو پیش کرے اور رکوع میں سجود میں مسنون تسبیحوں کے بعد اپنی حاجات کو عرض کرے۔ایسا ہی التحیات میں اور قیام اور جلسہ میں۔اس لیے میری جماعت کے لوگ اس تعلیم کے موافق نماز کے اندر اپنی زبان میں دُعائیں کر لیتے ہیں اور ہم بھی کر لیتے ہیں، اگرچہ ہمیں تو عربی اور پنجابی یکساں ہی ہیں۔مگر مادری زبان کے ساتھ انسان کو ایک ذوق ہوتا ہے۔اس لیے اپنی زبان میں نہایت خشوع اور خضوع کے ساتھ اپنے مطالب اور مقاصد کو