نماز عبادت کا مغز ہے

by Other Authors

Page 191 of 274

نماز عبادت کا مغز ہے — Page 191

191 دعا کے لوازمات اور دُعا کامل کے لوازمات یہ ہیں کہ اس میں رقت ہو۔اضطراب اور گدازش ہو۔جو دُعا عاجزی، اضطراب اور شکستہ دلی سے بھری ہوئی ہو وہ خدا تعالیٰ کے فضل کو کھینچ لاتی ہے اور قبول ہو کر اصل مقصد تک پہنچاتی ہے مگر مشکل یہ ہے کہ یہ بھی خدا تعالیٰ کے فضل کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتی اور پھر اس کا علاج یہی ہے کہ دُعا کرتا رہے، خواہ کیسی ہی بے دلی اور بے ذوقی ہو لیکن یہ سیر نہ ہو تکلف اور تصنع سے کرتا ہی رہے۔اصلی اور حقیقی دُعا کے واسطے بھی دُعا ہی کی ضرورت ہے۔۔بہت سے لوگ دُعا کرتے ہیں اور ان کا دل سیر ہو جاتا ہے وہ کہہ اُٹھتے ہیں کہ کچھ نہیں بنتا۔مگر ہماری نصیحت یہ ہے کہ اس خاک پنیری ہی میں برکت ہے۔کیونکہ آخر گوهر مقصود اسی سے نکل آتا ہے اور ایک دن آجاتا ہے کہ جب اس کا دل زبان کے ساتھ متفق ہو جاتا ہے اور پھر خود ہی وہ عاجزی اور ل البدر سے " اور اگر دُعا کو دل نہ چاہے اور پورا خشوع وخضوع دُعا میں حاصل نہ ہو تو اس کے حصول کے واسطے بھی دُعا کرتے اور اس بات سے ابتلا میں نہ پڑے کہ میری دُعا تو زبان پر ہی ہوتی ہے۔دل سے نہیں لکھتی۔دُعا کے جو لفظ ہوتے ہیں ان کو زبان سے ہی کہتا رہے۔آخر استقلال اور صبر سے ایک دن دیکھ لے گا کہ زبان کے ساتھ اسکا دل بھی شامل ہو گیا ہے اور عاجزی وغیرہ لوازمات دُعا میں پیدا ہو جائیں گئے