نماز عبادت کا مغز ہے — Page 147
147 مالا يطاق تکالیف اٹھانے کا دعوی کرے۔( ملفوظات جلد دوم، ص 698،697) عبادت میں تکلیف برداشت کرنے کی حقیقت قرآن شریف میں لا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْساً إِلَّا وُسْعَهَا (البقرة: 287) آیا ہے اور رہبانیت اسلام میں نہیں ہے جسمیں پڑ کر انسان اپنے ہاتھ سکھالے یا اپنی دوسری قوتوں کو بیکار چھوڑ دے یا اور قسم قسم کی تکالیف شدیدہ میں اپنی جان کو ڈالے۔عبادت کیلئے دُکھ اٹھانے سے ہمیشہ یہ مُراد ہوتی ہے کہ انسان ان کاموں سے رُکے جو عبادت کی لذت کو دُور کرنے والے ہیں۔اور ان سے رُکنے میں اولاً ایسی ضرور تکلیف محسوس ہوگی اور خدا تعالیٰ کی نارضامندیوں سے پر ہیز کرے۔مثلاً ایک چور ہے اس کو ضروری ہے کہ وہ چوری چھوڑے، بدکار ہے تو بدکاری اور بدنظری چھوڑے۔۔۔اسی طرح نشوں کا عادی ہے تو ان سے پر ہیز کرے۔اب جب وہ اپنی محبوب اشیاء کو ترک کرے گا۔تو ضرور ہے کہ اول اول سخت تکلیف اٹھاوے مگر رفتہ رفتہ اگر استقلال سے وہ اس پر قائم رہے گا تو دیکھ لے گا کہ ان بدیوں کے چھوڑنے میں جو تکلیف اس کو محسوس ہوتی ہے وہ تکلیف