نماز عبادت کا مغز ہے — Page 129
129 باب XVII نماز میں لذت نہ آنے کی وجہ ایک صاحب نے اعتراض کیا کہ بہت کوشش کی جاتی ہے مگر نماز میں لذت نہیں آتی۔فرمایا: انسان جو اپنے تئیں امن میں دیکھتا ہے تو اُسے خدا تعالی کیطرف رجوع کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔حالت استغناء میں انسان کو خدا یاد نہیں آیا کرتا۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میری طرف وہ متوجہ ہوتا ہے کہ جس کے بازو ٹوٹ جاتے ہیں۔اب جو شخص غفلت سے زندگی بسرکرتا ہے اُسے خدا کی طرف توجہ کب نصیب ہوتی ہے۔انسان کا رشتہ خدا تعالیٰ کے ساتھ عاجزی اور اضطراب کے ساتھ ہے لیکن جو عقلمند۔وہ اس رشتہ کو اس طرح سے قائم رکھتا ہے کہ وہ خیال کرتا ہے کہ میرا باپ دادا کہاں ہے اور اس قدر مخلوق کو ہر روز مرتا دیکھ کر وہ انسان کی فانی حالت کا مطالعہ کرتا ہے تو اس کی برکت سے اسے پتہ لگ جاتا ہے کہ میں بھی فانی ہوں اور وہ سمجھتا ہے کہ یہ جہاں چھوڑ دیا جائیگا اور اگر وہ اس میں زیادہ مبتلا ہے تو ہے