نماز عبادت کا مغز ہے — Page 127
127 اگر چہ اس وقت یہ ایک قسم کا نفاق ہوتا ہے مگر رفتہ رفتہ اس کا اثر دائمی ہوجاتا ہے۔اور واقعی روح میں وہ نیاز مندی اور فروتنی پیدا ہونے لگتی ہے۔( ملفوظات جلد دوم ، ص 696 تا 697) نماز میں جسمانی حالتوں کا اثر روحانی حالت پر پڑتا ہے غرض دُعا (جو نماز کا مغز ہے) وہ اکسیر ہے جو ایک مشت خاک کو کیمیا کر دیتی ہے۔اور وہ ایک پانی ہے جو اندرونی غلاظتوں کو دھودیتا ہے۔اس دُعا کے ساتھ رُوح پھلتی ہے اور پانی کی طرح بہہ کر آستانہ حضرت احدیت پر گرتی ہے۔وہ خدا کے حضور میں کھڑی بھی ہوتی ہے اور رکوع بھی کرتی ہے اور سجدہ بھی کرتی ہے اور اسی کی ظلت وہ نماز ہے جو اسلام نے سکھلائی ہے۔اور روح کا کھڑا ہونا یہ ہے کہ وہ خدا کیلئے ہر ایک ہیبت کی برداشت اور حکم ماننے کے بارے میں مستعدی ظاہر کرتی ہے اور اس کا رکوع یعنی جھکنا یہ ہے کہ وہ تمام محبتوں اور تعلقوں کو چھوڑ کر خدا کی طرف جھک آتی ہے اور خدا کیلئے ہو جاتی ہے اور اُس کا سجدہ یہ ہے کہ وہ خدا کے آستانہ پر گر کر اپنے خیال انگلی کھو دیتی ہے اور اپنے نقش وجود کو مٹادیتی ہے یہی نماز ہے جو خدا کو ملاتی ہے اور شریعت اسلامی نے اس کی