نماز اور اس کے آداب — Page 7
7 نماز سنوار کر پڑھو ”نماز ایسے ادا نہ کرو جیسے مرغی دانے کے لئے ٹھونگ مارتی ہے بلکہ سوز و گداز سے ادا کرو اور دعائیں بہت کیا کرو۔نماز مشکلات کی کنجی ہے۔ماثورہ دعاؤں اور کلمات کے سوا اپنی مادری زبان میں بھی بہت دعا کیا کروتا اس سے سوز و گداز کی تحریک ہو اور جب تک سوز و گداز نہ ہوا سے ترک مت کرو کیونکہ اس سے تزکیہ نفس ہوتا ہے اور سب کچھ ملتا ہے۔چاہئے کہ نماز کی جس قدر جسمانی صورتیں ہیں ان سب کے ساتھ دل بھی ویسے ہی تابع ہو۔اگر جسمانی طور پر کھڑے ہو تو دل بھی خدا کی اطاعت کے لئے ویسے ہی کھڑا ہو۔اگر جھکو تو دل بھی ویسے ہی جھکے۔اگر سجدہ کرو تو دل بھی ویسے ہی سجدہ کرے۔دل کا سجدہ یہ ہے کہ کسی حال میں خدا کو نہ چھوڑے جب یہ حالت ہوگی تو گناہ دور ہونے شروع ہو جاویں گے۔معرفت بھی ایک شئے ہے جو کہ گناہ سے انسان کو روکتی ہے۔جیسے جو شخص سم الفار ، سانپ اور شیر کو ہلاک کرنے والا جانتا ہے تو وہ ان کے نزدیک نہیں جاتا۔ایسے جب تم کو معرفت ہوگی تو تم گناہ کے نزدیک نہ پھٹکو گے۔اس کے لئے ضروری ہے کہ یقین بڑھاؤ اور وہ دعا سے بڑھے گا اور نماز خود دعا ہے نماز کو جس قدر سنوار کر ادا کرو گے اسی قدر گنا ہوں سے رہائی پاتے جاؤ گے۔“ (ملفوظات جلد سوم صفحہ 590-589)