نبوّت و خلافت کے متعلق اہل پیغام اور جماعت احمدیہ کا موقف — Page 33
" اگر کوئی کہے کہ انجمن نے خلیفہ بنایا ہے تو وہ چھوٹا ہے۔اس قسم کے خیالات ہلاکت کی حد تک پہنچاتے ہیں۔تم ان سے بچو۔پھر سن لو کہ مجھے نہ کسی انسان نے ، نہ کسی انجمن نے خلیفہ بنایا ہے اور نہ میں کسی انجمن کو اس قابل سمجھتا ہوں کہ وہ خلیفہ بنائے۔پس مجھ کو نہ کسی امین نے بنایا ہے اور نہ میں اس کے بنانے کی قدر کرتا ہوں۔اور اس کے چھوڑ دینے پر تھوکتا بھی نہیں۔اور نہ اب کسی میں طاقت ہے کہ وہ اس خلافت کی ردا کو مجھ سے چھین لے" دیدر ۴ جولائی ۴۱۹۱۷ بیعت خلافت اور خلافت سے وابستگی کی اہمیت حضرت خلیفہ اول کے ایک اور ارشاد سے بھی واضح ہوتی ہے۔لکھا ہے :- ایک صاحب نے حضرت خلیفہ اسیح کی خدمت میں لکھا کہ کیا آپ کی بعیت لازم اور فرض ہے ؟ے فرمایا کہ جو حکم اصل سبعیت کا ہے وہی فرع کا ہے۔کیونکہ صحابہ کرام رض نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دفن کرنے سے پہلے اس بات کو مقدم سمجھا اور کیا کہ خلیفہ کے ہاتھ پر سیت کریں۔" ر بدر ۳ مارچ شده صفحه ۹) اس ارشاد سے واضح ہے کہ نبی کے بعد ہر خلیفہ کی بعیت ضروری ہے اور سابقہ ارشادات نے اس بات کو واضح کر دیا ہے کہ خدا تعالیٰ جسے چاہتا ہے، خلیفہ بناتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد بھی اللہ تعالی ایسے چاہیگا۔خلیفہ بنائے گا۔اور ان خلفاء کی فرمانبرداری اور اطاعت ویسی ہی ضروری ہے جیسے کہ خلفاء راشدین کی ضروری تھی۔آپ اپنے آپ کو خلیفہ برحق خیال کرتے تھے اور ویسے ہی خلیفہ میں جیسا کہ حضرت ابو بکر اور حضرت عمر اور رمز