نبوّت و خلافت کے متعلق اہل پیغام اور جماعت احمدیہ کا موقف

by Other Authors

Page 59 of 78

نبوّت و خلافت کے متعلق اہل پیغام اور جماعت احمدیہ کا موقف — Page 59

09 سے موسوم ہوتا ہے جس پر تمام نبیوں کا اتفاق ہے " (م) (الوصیت (ص) مروجہ تعریف نبوت میں اس انقلابی تبدیلی کے بعد یعنی قریباً نشہ سے لیکر وفات تک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بر ملا اور کثرت کے ساتھ اور پوری تصریح کے ساتھ اپنی ذات پر نبی ، رسول اور مرسل کے الفاظ کا اطلاق فرمایا۔لیکن حضور کو ہمیشہ یہ احتیاط مد نظر تھی کہ کہیں عوام الناس التباس کا شکار نہ ہو جائیں۔اس لیے حضور ہمیشہ جب بھی اپنے لیے نبی یا رسول کے الفاظ استعمال فرماتے تو حضور ضرور یہ وضاحت فرما تھے کہ نبوت سے میری مراد وہ معروف ہوت نہیں ، جس کے لیے شریعیت جدیدہ لانا ضروری ہے اور جین کے لیے استقلال کی مشرط ہے حضور ہمیشہ اس امر کی وضاحت فرماتے کہ میں رسول کریم حضرت محمدمصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کا امتی ہوں اور مجھے جو کچھ ملا ہے حضور کے فیض سے ملا ہے۔اور میری نبوت حضور کے مرتبہ ختم نبوت کے قطعاً منافی نہیں۔اور ایک امتی کو الیسا نبی قرار دینے سے کوئی محذور لازم نہیں آتا۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں :- " میں نبی اور رسول نہیں ہوں باعتبار نئی شریعت اور نئے دعوئے اور نئے نام کے۔اور میں نبی اور رسول ہوں یعنی با عتبار طیلیت کا ملہ کے وہ آئینہ ہوں جس میں محمد کی شکل اور محمدی نبوت کا کامل انعکاس ہے " نزول المسیح م) اور فرماتے ہیں :-