نبوّت و خلافت کے متعلق اہل پیغام اور جماعت احمدیہ کا موقف

by Other Authors

Page 55 of 78

نبوّت و خلافت کے متعلق اہل پیغام اور جماعت احمدیہ کا موقف — Page 55

۵۵ حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :- " حضرت مسیح موعود پر کبھی کوئی وقت نہیں آیا کہ آپ اپنے دعوئی کو سمجھ نہ سکے ہوں۔آپ شروع سے آخر تک اُس مقام کو سمجھتے رہے جس پر آپ کو اللہ تعالیٰ نے کھڑا کیا ہے۔ہاں صرف اس دعومی کے نام میں آپ احتیاط کرتے رہے یعنی آیا اس کا نام نبوت رکھا جائے یا محدشت " (حقيقة الامرض) چنانچہ یہ ذکر کر کے کہ میں خدا تعالی کی طرف سے محدث ہو کر آیا ہوں حضرت اقدس فرماتے ہیں :- اور محدث بھی ایک معنے سے نبی ہی ہوتا ہے کیونکہ وہ خدا تعالے سے ہمکلام ہونے کا ایک شہرت رکھتا ہے۔امور غیبیہ اس پر ظاہر کیسے جاتے ہیں اور رسولوں اور نبیوں کی جی کی طرح اس کی وجھی کو بھی دخل شیطان سے منزہ کیا جاتا ہے اور مخیر شریعت اس پر کھولا جاتا ہے اور بعینہ انبیاء کی طرح مامور ہوتا ہے اور انبیاء کی طرح اس پیپر فرض ہوتا ہے کہ اپنے تئیں بہ آواز بلند ظاہر کرے اور اس سے انکار کرنے والا ایک حد تک مستوجب سزا ٹھٹھرتا ہے ، اور نبوت کے معنے بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ امور متذکرہ بالا اس میں پائے جائیں۔" توضیح مرام) گویا آپ نبی کے لفظ کی تا دیل کر کے اُسے معنی محدث لیتے تھے۔مگر چونکہ حضرت مسیح موعود خدا تمہ کے نزدیک نبی تھے اور خدا تعالیٰ بار بار اور متواتر بارش کی طرح اپنی وحی میں حضور کو نبی اور رسول کے الفاظ سے مخاطب فرمانا تھا