نبوت سے ہجرت تک

by Other Authors

Page 48 of 81

نبوت سے ہجرت تک — Page 48

خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہنے لگیں کہ یا رسول اللہ آپ شادی کیوں نہیں کر لیتے۔آپ نے فرمایا۔کس سے کروں۔بولیں یا رسول اللہ آپ کے دوست حضرت ایو کرینہ کی بیٹی عائش یہ بھی ہے۔آپ کے خادم مکران بن عمرو کی بیوہ سودہ بھی اچھی ہیں۔آپ نے فرمایا " اچھا تم دونوں جگہ بات کرو۔اور 16۔خدا کا کہنا یا ہوا کہ دونوں کے عزیز راضی ہو گئے۔چنانچہ شوال سنہ نبوی میں آپ کا دونوں کے ساتھ نکاح ہوا۔دونوں بیویوں کا مہر چار چار سو درہم مقرر ہوا۔حضرت سودہ تو رخصت ہو کہ آپ کے گھر گئیں لیکن حضرت عائشہ کی عمر ابھی سات سال تھی اس لئے وہ ماں باپ کے گھر ہی رہیں۔بچہ اللہ کاشت کر رہے آپ کے گھرمیں بچوں کو سنبھالنے والی اور آپ کا خیال رکھنے والی آگئیں۔اب آقام کی تبلیغ کا حال سنائیں۔ماں۔تبلیغ تو ہر حال میں جاری تھی۔شعب ابی طالب میں قید ہونے کے با وجود آپ حج کے دنوں میں مختلف قبائل کی قیام گاہوں میں جا کہ اسلام کا پیغام پہنچاتے۔عکاظ میں میلہ لگا کرتا تھا آپ میلے میں اس لئے جاتے کہ وہاں لوگ ہوں گے جن سے خدائے واحد کی بات کر سکیں گے۔مجھے مجھے کفارہ ملکہ بھی اپنی کوششیں کرتے رہتے تاکہ آپ کی بات کوئی نہ مٹنے یجب شعب ابی طالب کا محاصرہ ٹوٹا تو آپ نے فیصلہ کیا کہ مکہ سے باہر نکل کہ قریب کی آبادیوں میں قسمت آزمائیں۔مکہ والے تو اللہ کی رحمت پر اپنے دروازے بند کر لیتے تھے۔اللہ کی زمین وسیع ہے۔آپ نے فیصلہ فرمایا کہ طائف چلیں