نبوت سے ہجرت تک — Page 29
۲۹ انے بادشاہ ہم اس پر ایمان لائے۔اس کی اطاعت کی۔لیکن ہماری قوم ہم سے ناراض ہو گئی ہیں دکھوں اور مصیبتوں میں ڈالا۔طرح طرح کے مظالم کمہ کے عذاب دیا۔تاکہ ہم اس دین کو چھوڑ دیں۔مجبوراً اپنے وطن کو چھوڑ کر آپ کے ملک میں پناہ لی۔ہم امید کرتے ہیں کہ ہم پر آپ کے ملک میں ظلم نہیں ہو گا۔" بچہ۔اچھا کیا کہ سب کچھ سچ سچ بتا دیا۔بادشاہ نے کیا کہا ؟ ماں۔جب انسان کو خدا کا خوف ہو تو وہ ہر خوف سے بے نیاز ہو جاتا ہے۔بادشاہ صاف اور سچی باتیں سن کر متاثر ہوا۔اس نے کہا کہ جو کلام تمہارے بنی پر اترا ہے۔اس میں سے کچھ سناؤ۔چنانچہ حضرت جعفر بن ابی طالب نے سورۃ مریم کی ابتدائی آیات خوش الحانی سے تلاوت کیں جن کو سن کر نجاشی کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے۔اس نے رقت بھری آواز میں کہا کہ ور خدا کی قسم یہ کلام اور ہمارے سیع کا کام ایک ہی نور سے جاری ہونے والی کر نہیں ہیں۔بچہ بادشاہ نے کفار کے وفد کو کیا جواب دیا۔ماں۔بادشاہ نے اُن کے تخالف واپس کر دیئے اور کہا کہ آپ لوگ واپس چلے جائیں۔میں ان لوگوں کو آپ کے ساتھ نہیں بھیج سکتا۔کیونکہ یہ بے قصور اور مظلوم ہیں۔بچہ۔پھر تو انہیں بہت غصہ آیا ہوگا۔ماں۔ہاں لیکن وہ آسانی سے جانے والے نہیں تھے۔عمرو بن العاص دوبارہ