نبوت سے ہجرت تک

by Other Authors

Page 62 of 81

نبوت سے ہجرت تک — Page 62

۶۲ ہم کریں اور حکومت غیروں کو ملے۔جاؤ ہمیں تمہاری ضرورت نہیں۔ایک شخص مسیلمہ تھا اس کا تعلق بنو ضیفہ سے تھا یہ یمامہ کا رہنے والا تھا۔اس قبیلے نے بھی بڑی سختی سے انکار کیا تھا بلکہ مہملہ نے جھوٹی نبوت کا دعوی بھی کیا تھا۔تاریخ نے اسے مسلیمہ کذاب کے نام سے یاد رکھا۔اللہ پاک نے تو اپنے نبی کی شان کو دنیا پر ظاہر کر نا تھا اور اس کے لئے انتظام بھی کر رکھا تھا۔بچہ۔کیا کوئی پیش گوئی آپ کی آمد کے متعلق تھی۔ماں۔جی ہاں ، ہزاروں سال پہلے توریت میں ایک عظیم شان والے نبی کی خبریں دی گئی تھیں یہ بھی بتایا تھا کہ وہ اپنے وطن سے ہجرت کرے گا جہاں ہجرت کر کے جائے گا اُس کی خبر بھی دی گئی تھی۔وہ علاقہ میثرب کا علاقہ تھا جو مکہ سے قریباً اڑھائی سو میل کے فاصلے پر تھا۔ان یہودیوں نے ہو یہ سب جانتے تھے اِدھر اُدھر سے آگرہ مشرب میں آباد ہونا شروع کر دیا اور الہ دگرد کے قبیلوں پر رعب بھی ڈالا کرتے تھے کہ ساری دنیا کو فتح کرنے والے مجھے نبی کی آمد کے دن آگئے ہیں ہم اُن سے مل کر تم کو خوب سزائیں دیں گے۔اُن دنوں چونکہ آپ پیدا ہو چکے تھے وہ نشانیاں پوری ہوتی سب دیکھ رہے تھے اس لئے بہت ذکر رہتا کہ موعود نبی آنے والے ہیں کبھی کبھار کوئی مسافر ذکر کر تا کہ مکہ میں ایک شخص نے اللہ کا بنی ہونے کا دعوی کیا ہے مگر ملاقات کسی کی نہیں ہوئی تھی۔یثرب میں دو قبیلوں اوس اور خزرج میں لڑائی رہتی تھی۔ان میں سے کچھ لوگ اس غرض سے مکہ آئے کہ کچھ دو انگئیں