نبوت سے ہجرت تک — Page 50
بچہ۔یہ تو بہت برا ہوا کیسے لوگ تھے جو نیکی اور بھلائی کی باتیں نہ سُنتے تھے نہ منے دیتے تھے۔بلکہ انا دکھ دیتے تھے۔پیارے آقا ان سے کچھ مانگتے تو نہیں تھے۔دیتے ہی تھے۔ماں۔دنیا میں گناہ گاروں کا یہی دستور رہا ہے۔ایک لاکھ جو میں ہزار نئی تشریف لائے سب کو دکھ دیئے گئے۔ہمارے آقا کو جو سب نبیوں کے سردار ہیں سب سے زیادہ دکھ دیئے گئے۔یہ تو آپ کو پتہ ہے کہ جب گمراہی زیادہ ہوتی ہے تو نبی تشریف لاتے ہیں۔آپ کی قوم بھی جاہل تھی ان کو کئی قسم کے اعتراضات تھے۔ہمارے جیسا انسان نہی کیسے ہو سکتا ہے۔اگر انسان ہی نے نبی ہونا تھا تو پھر خدا تعالیٰ کسی سردار یا رئیس کو نبی کیوں نہیں پیتا۔ایک کمز ور اور غریب کو نبی کیوں بنا دیتا ہے۔پھر اگر یہ نہی ہی ہے تو اس کے ساتھ امتیاز کے لئے فرشتوں کی فوج ہونی چاہیئے تھی جو مخالفوں کو یہ باد کرے اور تنگ کرنے والوں کو سزا د ہے۔بچہ۔اللہ پاک ظالم تھوڑا ہی ہے جو سزا دیتا پھرے اور بم یاد کرتا رہے وہ تو پیار محبت کا سبق دیتا ہے آپ مجھے پیارے آقا کے متعلق بتائیے وہ رخمی تھے۔ماں جی بیچے آقا زخمی تھے اور دل بھی بے حد اد اکس تھا۔آپ اس اس پر گئے تھے کہ مکہ والوں نے نہیں مانا تو طائف والے مان لیں گے مگر طائف والوں نے تو گستاخی کی انتہا کر دی۔طائف سے تین میل کے فاصلے پر ایک ٹریس مکہ عتبہ بن ربیعہ کا باغ تھا۔آپ نے وہاں پناہ لی۔ایک سایہ دار