نبوت سے ہجرت تک

by Other Authors

Page 49 of 81

نبوت سے ہجرت تک — Page 49

۴۹ طائف ایک شہر ہے جو مکہ سے جنوب مشرق میں چالیس میل کے فاصلے پہ ہے۔یہاں قبیلہ بنی ثقیف کے آباد تھے۔ان میں بڑے بڑے سردار اور میں بھی تھے۔طائف کے سفر میں آپ کے ساتھ آپ کے آزاد کردہ غلام زید بن حارثہ بھی تھے۔یہ سنہ نبوی کا واقعہ ہے آپ طائف میں دس دن تک شہر کے بڑے بڑے رئیسوں اور سرداروں کو باری باری ملاقات کرتے اور خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچاتے رہے لیکن وہ اپنی دنیا داری میں اتنے مگن تھے کہ آپ کی بات کو مہنسی مذاق میں اڑا دیتے اور سنجیدگی سے غور ہی نہ کرتے کہ آپ کس نعمت کی طرف میلا رہے ہیں۔بچہ۔آپ نے بتایا تھا کہ ہر نبی کی قوم اس کی مخالفت کرتی ہے۔ماں۔یہ مخالفت نبی کی سچائی کی دلیل بھی ہوتی ہے۔سرداروں کی دعوت الی اللہ کے سلسلے میں آپ سب سے بڑے رئیس عبدیالیل کے پاس تشریف لے گئے۔وہ بہار میں بھی تھا اور بڑا بد نصیب بھی تھا۔آپ کی دعوت من کمر بون اگر آپ سچے ہیں تو مجھے بات کرنے کی طاقت نہیں اور اگر جھوٹے ہیں تو مجھے بات کرنے سے کوئی فائدہ نہیں ، ساتھ ہی یہ بھی مشورہ دیا کہ آپ یہاں سے چلے جائیں۔آپ کی بات کوئی سنے گا۔پھر یہ ظلم کیا کہ شہر کے آوارہ لڑکے آپ کے پیچھے لگا دیئے۔لڑکوں نے پھروں سے جھولیاں بھر لیں اور شور مچاتے گالیاں دیتے آپ کے پیچھے ہو لئے۔شہر سے باہر تین میل تک وہ پتھر مارتے ہوئے چلے گئے بینچھر وں سے آپ زخمی ہو گئے۔جگہ جگہ سے خون بہنے لگا۔خون ہی یہ کہ آپ کے جوتے بھر گئے۔