نبوت سے ہجرت تک — Page 28
YA ا مال۔مسلمان مہا جرین دربار میں حاضر ہوئے۔بادشاہ نے پوچھا کہ کیا معاملہ ہے کون سا دین تم لوگوں نے اختیار کیا ہے۔یہ تمہارے لوگ بتا رہے ہیں کہ اس دین کی وجہ سے فتنہ اور فساد پھیل گیا ہے۔بچہ۔مسلمان تو سخت گھبرائے ہوں گے کہ اب کیا ہو گا۔ماں۔میں نے آپ کو پہلے بھی بتایا ہے کہ جو لوگ سچے دل سے خدا تعالیٰ کی ذات پر ایمان لاتے ہیں ان کو کسی کا خون نہیں ہوتا۔بلکہ وہ ہر معاملہ کو اپنے مولا پر چھوڑ دیتے ہیں۔اور پھر اگر کوئی دکھ تکلیف اٹھانی بھی پڑے تو اپنے خدا کی رضا پر راضی رہتے ہیں۔اور یہی خدا دالوں کی شان ہے۔بچہ۔امی جلدی بنائیے۔پھر مسلمانوں نے کیا جواب دیا۔ماں۔پیاری جان احضرت جعفر بن ابی طالب نے ( آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چچازاد بھائی تھے مسلمانوں کی طرف جواب دیا۔ا سے بادشاہ ہم جاہل تھے۔بت پرست تھے۔مردار کھاتے ، بدکاریوں میں مبتلا تھے۔بے رحمی کرتے ہمسائیوں سے بدسلوکی کرنا۔کمزور کا حق دیا لینا ہمارا طریق تھا۔اللہ نے ہم میں اپنا رسول بھیجا جسکی شرافت ، صداقت امانت و دیانت کو ہم سب جانتے تھے۔اس نے ہم کو ایک خدا کی پرستش (عبادت) سکھائی ، بت پرستی (مشرک) سے روکا سچائی ، امانت اور صلہ رحم کا حکم دیا۔ہمسایوں سے اچھے سلوک ، بدکاری، جھوٹ اور تیموں کا مال کھانے سے منع کیا۔آپس کی لڑائیاں جن سے بلا وجہ انسانی جانیں ضائع ہوتی نہیں روکا اور عبادت الہی کا حکم دیا۔