نبوت سے ہجرت تک — Page 64
سلمی سے (۵) عقبہ بن عامر بی حرام سے اور (4) جانترین عبداللہ بنی عبیدہ سے تھے۔ان میں سے رافع خوبن مالک کو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس وقت تک نازل ہونے والا قرآن مجید بھی عطا فرمایا۔ان پاک انسانوں نے بشرب میں اسلام کا پیغام پھیلایا۔آپ کو بڑا حوصلہ دے کر گئے کہ ہم ہر حال میں آپ کا ساتھ دیں گے۔بچہ۔واقعی خدا تعالی ہی بہتر جانتا ہے۔کہ اُس نے کن سے اور کب کام لینا ہے۔ہاں۔جب سب طرف سے مایوسی ہو۔ہر دروازہ بند ہو جائے تو پھر قادر خدا ایسا راستہ کھوتا ہے جو کسی کے گمان میں بھی نہیں ہوتا۔مکہ والوں نے ظلم وستم کی انتہا کر دی تھی۔صحابہ کرام اپنے خدا تعالیٰ کے بھر دہ پر ہر حال میں صبر و شکر کرتے تھے۔اتنا ضرور تھا کہ آپؐ کے انداز دیکھ کر لوگوں کے دلوں پر رعب طاری ہونے لگا تھا۔مگر بد نیتی آڑے آتی اُدھر مشرب میں گھر گھر اسلام کا چرچا ہونے لگا۔آپ چھ احباب کے لئے دُعا کرتے اور منتظر تھے کہ پھر حج کے دن آئیں اور اُن کی طرف سے خیر کی خبریں ملیں۔بہ۔اللہ کرے بہت سے لوگ آکر مسلمان ہو جائیں۔ں۔پھر حج کے دن آئے آپ منی کی جانب عقبہ کی گھاٹی میں پہنچے تو آپ کو یہ دیکھ کہ بہت سکون ملا کہ مشرب سے ایک چھوٹی سی جماعت آئی ہوئی تھی پہلے والوں میں سے پانچ اور سات نئے خوش نصیب آئے تھے۔پیارے آتی