نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 84 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 84

۸۴ نبیوں کا سردار چچا! ہم نے سنا ہے کہ ابو جہل، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت دُکھ دیا کرتا تھا، چا! میرا دل چاہتا ہے کہ میں آج اُس کے ساتھ مقابلہ کروں آپ مجھے بتا ئیں وہ کون ہے؟ وہ کہتے ہیں کہ ابھی میں جواب دینے نہیں پایا تھا کہ میرے دوسرے پہلو میں دوسرے ساتھی نے کہنی ماری اور جب میں اُس کی طرف متوجہ ہوا تو اُس نے بھی آہستہ سے وہی سوال مجھے سے کیا۔وہ کہتے ہیں کہ میں اُن کی اس دلیری پر حیران رہ گیا کیونکہ باوجود تجربہ کار سپاہی ہونے کے میں بھی یہ خیال نہیں کرتا تھا کہ لشکر کے کمانڈر پر اکیلا جا کر حملہ کرسکتا ہوں۔وہ کہتے ہیں میں نے اُن کے اس سوال پر انگلی اُٹھائی اور کہا وہ شخص جو سر سے پیر تک مسلح ہے اور دشمن کی صفوں کے پیچھے کھڑا ہے اور جس کے آگے دو تجربہ کار جرنیل ننگی تلوار میں لئے کھڑے ہیں وہی ابوجہل ہے۔وہ کہتے ہیں ابھی میری اُنگلی نیچے نہیں گری تھی کہ وہ دونوں لڑکے جس طرح عقاب چڑیا پر حملہ کرتا ہے اس طرح چیختے ہوئے کفار کی صفوں میں گھس گئے۔اُن کا یہ حملہ ایسا اچانک اور ایسا خلاف توقع تھا کہ کسی شخص کی تلوار اُن کے خلاف نہ اُٹھ سکی اور وہ تیر کی سی تیزی کے ساتھ ابو جہل تک جاپہنچے۔اُس کے پہرہ داروں نے اُن پر وار کئے ، ایک کا وار خالی گیا اور دوسرے کے وار سے ایک نوجوان کا ہاتھ کٹ گیا۔لیکن دونوں میں سے کسی نے کوئی پرواہ نہ کی اور صرف ابو جہل کی طرف متوجہ ہوئے اور اُس پر اس زور سے جا کر حملہ کیا کہ وہ زمین پر گر گیا اور پھر اُنہوں نے اُسے نہایت شدید زخمی کر دیا ہے مگر بوجہ تلوار چلانے کا فن نہ جاننے کے اُسے قتل نہ کر سکے۔اس واقعہ سے معلوم ہوسکتا ہے کہ وہ مظالم جو مکہ کے لوگ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کرتے رہے تھے وہ قریب سے دیکھنے والوں کو کتنے بھیا نک نظر آتے تھے۔اب بھی ان مظالم کو تاریخ میں پڑھ کر ایک شریف آدمی کا دل دھڑکنے لگتا ہے اور رونگٹے کھڑے : بخاری کتاب المغازی باب فضل من شهد بدر