نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 217 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 217

۲۱۷ نبیوں کا سردار پر رہنے نہیں دیتے۔لے مکہ میں داخل ہوتے وقت حضرت ابو بکر آپ کی اونٹنی کی رکاب پکڑے ہوئے آپ کے ساتھ باتیں بھی کرتے جارہے تھے اور سورہ فتح جس میں فتح مکہ کی خبر دی گئی تھی وہ بھی پڑھتے جاتے تھے۔آپ سیدھے خانہ کعبہ کی طرف آئے اور اونٹنی پر چڑھے چڑھے سات دفعہ خانہ کعبہ کا طواف کیا۔اُس وقت آپ کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی۔آپ خانہ کعبہ کے گرد جو حضرت ابراہیم اور اُن کے بیٹے اسمعیل نے خدائے واحد کی پرستش کے لئے بنایا تھا جسے بعد کو اُن کی گمراہ اولا د نے بتوں کا مخزن بنا کر رکھ دیا تھا گھومے اور وہ تین سو ساٹھ بت جو اس جگہ پر رکھے ہوئے تھے اُن میں سے ایک ایک بت پر آپ چھڑی مارتے جاتے تھے اور یہ کہتے جاتے تھے جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا۔ل یہ وہ آیت ہے جو ہجرت سے پہلے سورہ بنی اسرائیل میں آپ پر نازل ہوئی تھی اور جس میں ہجرت اور پھر فتح مکہ کی خبر دی گئی تھی۔یوروپین مصنفین اس بات پر متفق ہیں کہ یہ ہجرت سے پہلے کی سورۃ ہے اس سورۃ میں یہ بیان کیا گیا تھا کہ وَقُل رَّبِّ أَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَل لِّي مِن لَّدُنكَ سُلْطَانًا نَصِيرًا وَقُلْ جَاءَ الْحَقُ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا - س یعنی تو کہہ دے میرے رب ! مجھے اس شہر یعنی مکہ میں نیک طور پر داخل کیجیؤ یعنی ہجرت کے بعد فتح اور غلبہ دے کر۔اور اس شہر سے خیریت سے ہی نکالیو یعنی ہجرت کے وقت۔اور خود اپنے پاس سے مجھے غلبہ اور مدد ل السيرة الحلبية جلد ۲ صفحه ۳۱ مطبوعہ مصر ۱۹۳۵ء کے سیرت ابن ہشام جلد ۴ صفحه ۵۹ مطبوعه مصر ۱۹۳۶ء+ بنی اسرائیل: ۸۲ ے بنی اسرائیل :۸۱، ۸۲