نبیوں کا سردار ﷺ — Page 209
۲۰۹ نبیوں کا سردار ان کو حکم دیں کہ کھانا پینا چھوڑ دو تو یہ لوگ کھانا اور پینا بھی چھوڑ دیں۔ابوسفیان نے کہا۔میں نے کسری کا دربار بھی دیکھا ہے اور قیصر کا دربار بھی دیکھا ہے لیکن اُن کی قوموں کو اُن کا اتنا فدائی نہیں دیکھا جتنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جماعت اس کی فدائی ہے۔لے پھر عباس نے کہا کیا یہ نہیں ہو سکتا کہ تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آج یہ درخواست کرو کہ آپ اپنی قوم سے عفو کا معاملہ کریں۔جب نماز ختم ہو چکی تو حضرت عباس ابوسفیان کو لے کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔آپ نے فرمایا۔ابوسفیان ! کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ تجھ پر یہ حقیقت روشن ہو جائے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ؟ ابوسفیان نے کہا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔آپ نہایت ہی حلیم، نہایت ہی شریف اور نہایت ہی صلہ رحمی کرنے والے انسان ہیں۔میں اب یہ بات تو سمجھ چکا ہوں کہ اگر خدا کے سوا کوئی اور معبود ہوتا تو کچھ تو ہماری مدد کرتا۔اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابوسفیان ! کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ تم سمجھ لو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ ابوسفیان نے کہا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں اس بارہ میں ابھی میرے دل میں کچھ شبہات ہیں۔مگر ابوسفیان کے تر ڈر کے باوجود اُس کے دونوں ساتھی جو اُس کے ساتھ ہی مکہ سے باہر مسلمانوں کے لشکر کی خبر لینے کے لئے آئے تھے اور جن میں سے ایک حکیم بن حزام تھے وہ مسلمان ہو گئے۔اس کے بعد ابوسفیان بھی اسلام لے آیا، مگر اُس کا دل غالباً فتح مکہ کے بعد پوری طرح کھلا۔ایمان لانے کے بعد حکیم بن حزام نے کہا۔یا رَسُول اللہ ! کیا یہ شکر آپ اپنی قوم کو ہلاک کرنے کے لئے اٹھا لائے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ان لوگوں نے ظلم کیا ، ان لوگوں نے گناہ کیا اور تم لوگوں نے حدیبیہ میں باندھے ہوئے عہد کو توڑ دیا اور خزاعہ کے خلاف ظالمانہ جنگ کی۔اُس مقدس مقام پر ل السيرة الحلبية جلد ۳ صفحه ۹۲ مطبوعہ مصر ۱۹۳۵ء